محبت کیسے کی جائے

محبت کیسے کی جائے

بلال احمد خان

بزم خیالی کا اک خواب،رات کی اندھیری چاندنی کی طرح آنکھوں کے آسمان پرامڈ آیا تھا۔اس خیالی دنیا میں رنگا رنگا بہار،حسرتوں بھرے بے انتہا خاموش پیار،رات کی چاندنی میں چمکتا چاند،صبح کی سحر میں نسیم سحر کا جونکا اور ان خیالوں میں چند لوگ دیکھتا ہوں،کچھ تو آوارہ آذادی میں بے تحاشہ ہنس رہے ہیں،کچھ جذبات میں ڈوبے کسی کی بانہوں میں بس رہے ہیں،کچھ خاموشی سے کسی کو تک رہے ہیں اور کچھ بستر میں دو طرفہ لپٹ رہے ہیں۔کچھ آگے چلتا ہوں اور اک خاموش بھری سڑک پر بنے فوٹ پات پر چڑھ جاتا ہوں اور دیر تک چلتے چلتے دو لوگوں کے مابین اک جذباتی رشتہ دیکھتا ہوں۔مشہور محاورہ ہے کہ اندھیر نگری چوپٹ راج، اُن دونوں کے مابین بھی ایسی ہی ممثالت پائی جا رہی تھی،دیکھتا ہوں کے آخر نظر کو اُن کے کیا سے کیا سماں ملتے ہیں، کسی ٹھرکی کی طرح میری آنکھیں بھی من مانی صورت دیکھنے اور اُن کی بے شرم حرکتیں تکنے کو بے تاب تھیں۔خیر اُن کے مابین بہت کچھ ہوا جو اکثر جذبات میں ڈوب کر ہوتا ہے، اور میری آنکھوں نے بھی بہت کچھ دیکھا جو دیکھا جا سکتا تھا۔بے ساختہ سڑک بھی ختم ہوئی اور تماشا گیروں کے تماشے بھی ختم ہوئے،میں اترتا ہوں اور اک اُداس پارک میں جس کے چاروں اطراف اُداس اُداس درخت ہلکی ہلکی ہوا میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے اور اس قدر قریب ہو کر واپس جا ر تھے کہ ذہن میں اُن کی سر گوشیوں کا اک بدگماں جیسا عکس جاتا ۔ خیر اک بے جان چیز میں دلچسپی و لئے گا جس کی اپنی جان کسی اور میں دلچسپی لے، تو ما ایک سڑک کے کنارے سے اُتر کر پارک کے بینچ پر بیٹھ گیا،جو کہیں ہفتے سے گرد غوبر میں لپٹا ہوا تھا۔اس کی پشت پر موٹے موٹے حرفوں میں عشق پسند لوگوں کی محبوبوں کے نام چسپان تھے اور انہیں ناموں پر کبوتر اور کوے کی نشاندھی بھی دیکھنے کو ملتی تھی۔کچھ دیر بیٹھا اوراس بیٹھنے کے دوران ایک چیز نمایاں نظر ائی اور وہ چیز تھی ملنا ملانا۔ کچھ زیادہ عُمر کے تو نہیں 20سے 25 سال کے درمیان عُمر کے نوجوان آن اُن کی حسیناؤں کو دیکھتا رہا اک آتا دوسرا جاتا، دوسرا جاتا تو تیسرا آتا ایسے لگ رہا تھا کے جیسے اپنی اپنی باری لگائی ہوئی ہوں۔جوانی کے رنگ میں ڈوبے یہ جوان اپنی والی کو لاتے، ہاتھ میں ہاتھ دیتے ، اور کوئی کوئی تو منہ میں منہ دیئے نظر آ رہے تھے،اسے لیگ رہا تھا کے جیسے کسی فلم کے گھٹیا سیں چل رہے ہوں ، ایسی گٹھیا سین دیکھ کر تو خواب بھی شرما گیا اور مجھ سے بیداری کی خواہش کرنے لگا اور آخر کار مجھے بھی ان حسین خابوں کے بعدبیداری کا شرف حاصل ہوا۔

ساری کہانی کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ میں بھی کبھی کبھی ایسے خابوں کی تمنا کر بیٹھتا تھا لیکن یہ سب میری بے زار خواہشیں تھیں جن کی بدولت انسان بےتہاشہ گناءوں کا پتلا ثابت ہوتا ہے ۔ انسان کے اندر محبت کے جذبات پائے جاتے ہیں جن کا انسان اکثر غلط استعمال کرتا ہے۔محبت اک پاکیزہ راستہ ہوتا ہے تو ہمیں چاہیے کے اس پاک رشتے کو گلی محلّے، اسکول، پارک میں رسوا نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں