عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ

بقلم اقصیٰ بنت عارف

حضرت عمر بن خطاب ؓ قریش کے قبیلہ بنو عدیی میں پیدا ہوئے۔ بنو عدیی کے گھر صفا اور مروہ کے درمیان تھے۔ آپؓ کے والد کا نام خطابؓ تھا اور وہ بنو عدیی کے سردار تھے۔ شروع میں آپؓ اسلام کے اعلانیہ دشمن تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد آپ اسلام کا دفاع کرنے لگے۔ اس وقت قریش کے صرف پندرہ لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور آپؓ بھی ان لوگوں میں شامل ہوتے تھے۔
حضرت عمرؓ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ مقرر ہوئے۔ آپؓ کی حکومت ۲۲ لاکھ مربع میل پر تھی۔ آپؓ تمام جنگوں میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ رہے۔آپؓ نے غزوہ بدر میں حصہ لیا اور عاس بن ہشام کو قتل کیا۔ اگلے سال احد کی لڑائی ہوئی تو آپؓ نے اس میں بھی حصہ لیا۔ ہجرت کے پانچویں سال خندق کی لڑائی ہوئی ۔ حضرت عمرؓ نے بھی خندق کھودی۔ خندق کے ایک حصے کا ذمہ بھی آپؓ کو دیا گیا اور بعد میں آپ کے نام کی مسجد وہاں تعمیر کی گئی جو آج بھی موجود ہے۔
آپؓ کو رسول اکرم ﷺ نے الفاروق کا خطاب دیا، الفاروق یعنی حق اور باطل میں فرق کرنے والا۔ آپؓ کو رسول اللہ ﷺ نے حیات میں ہی جنت کی بشارت سنا دی تھی اس لیے آپؓ کا شمارعشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے۔ آپؓ امت محمدی کے صاحب الہام تھے اور آپؓ کو اللہ کے نبیﷺ نے اپنا وزیر قرار دیا۔ خلفائے راشدین میں بھی آپؓ کا شمار ہوتا ہے۔
حضرت عمر فاروق ؓ عدل و انصاف کے بلند مرتبے پر فائز تھے۔ آپؓ کے حکم ہر کوئی مانتا کیونکہ آپ عادل اور راست گو تھے۔ حتیٰ کہ دریا بھی آپؓ کے حکم مانتے۔ جب مصر فتح ہوا تو دریائے نیل خشک تھا اور قحط کا خطرہ تھا۔ وہاں کا رواج تھا کہ ہر سال کسی دوشیزہ کو قربان کر کے دریا میں پھینک دیا جاتا تو پانی رواں دواں ہو جاتا۔ جب قاصد آپؓ کے پاس یہ مسئلہ لے کر پہنچا تو آپؓ نے دریائے نیل کو خط لکھا کہ اگر تو اللہ کے حکم سے چلا کرتا ہے تو چل ورنہ ہمیں تیرے چلنے کی کوئی حاجت نہیں اور قاصد سے کہا کہ یہ خط جا کے دریائے نیل میں پھینک دو۔ قاصد نے آپؓ کے حکم کی تعمیل کی اور خط دریا میں پھینک دیا۔ پانی چلنا شروع ہو گیا اور اللہ رب العزت کی کرنی دیکھیے کہ ۱۴ صدیاں ہو گئیں ، آج تک پانی بند نہیں ہوا ۔ اسی طرح زمین اور آگ بھی آپؓ کا حکم مانتے۔
ایک دفعہ حضرت عمربن خطابؓ اپنے دورِخلافت میں ایک رات گشت میں نکلے۔ آپؓ کے ساتھ آپ کا غلام اسلم تھا ۔ آپؓ کو مدینے سے باہر روشنی نظر آئی یعنی آگ کی روشنی تو آپ اس طرف گئے اور دیکھا کہ ایک عورت بیٹھی ہوئی ہے اور ہنڈیا چڑھائی ہوئی ہے اور بچے پاس بلک بلک کے رو رہے ہیں تو آپؓ نے دریافت فرمایا کہ بی بی یہ بچے کیوں رو رہے ہیں تو اس نے کہا کہ بھائی بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں۔ پھر آپؓ نے ہنڈیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ اس میں کیا چڑھایا ہوا ہے تو اس نے کہا کہ اس میں کچھ بھی نہیں ہے، پانی ہے۔ بچوں کو چپ کروانے کے لیے رکھا ہوا ہے ۔ میرا اور عمرؓ کا حساب اللہ کی بارگاہ میں ہوگا۔
اسے نہیں خبر تھی کہ یہ حضرت عمرؓ ہی کھڑے ہیں تو حضرت عمرفاروق ؓ رونے لگے کہ عمر کو تیرا کیا پتا تو عورت کہنے لگی کہ پھر وہ ہمارا حاکم کیوں بنا جب وہ ہمارا پتا نہیں رکھتا۔ حضرت عمرؓ نے دوڑ لگائی اور بیت المال آئے ۔ غلے کی بوری بھری اور اٹھانے لگے تو غلام نے کہا میں اٹھاتا ہوں ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا قیامت والے روز میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟
آپؓ نے بوری کندھے پہ اٹھائی اور دوڑ لگائی۔ وہاں پہنچے تو ہنڈیا میں چیزیں ڈالیں اور حلوہ خود تیار کیا۔ پلیٹ میں ڈال کے بچوں کے سامنے رکھا۔ بچے کھانے لگے اور خوش ہونے لگے تو عورت کہنے لگی کہ بھائی عمر کی بجائے حاکمیت کے تم زیادہ حقدار ہو۔ آپؓ اٹھ کر چلے آئے اور اسلم سے کہا کہ میں نے بچوں کو روتے ہوئے دیکھا تھا تو میرا دل چاہا کہ میں ان کو ہنستا ہوا دیکھ کر پھر یہاں سے جاؤں۔ واپس جاکے آپؓ نے اس عورت کا وظیفہ بھی لگوا دیا۔
آپ دن بھر لوگوں کے مسائل سنتے اور رات میں جب سب سو جاتے تو آپؓ پہرہ دیتے۔ اس قدر احساس کرنے والے حکمران تھے آپؓ۔آپؓ کے جیسا حکمران ملنا بہت مشکل ہے۔ نہ کوئی آپ جیسا حکمران ہے اور نہ ہی کوئی بن سکتا ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے ۱۰سال ۶ماہ اور ۴ دن خلافت کی۔
حضرت عمرؓ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب فرما۔ ہجرت کے گیارہویں سال اللہ نے ان کہ دعا قبول فرما لی۔
ذوالحج ۲۳ ہجری میں آپ مکہ روانہ ہوئے۔ حج سے فارغ ہو کر اس مہینے کی آخری تاریخوں میں واپس لوٹے۔ جمعہ کے دن خطبہ دیا جوبہت طویل تھا، اس میں آپؓ نے لوگوں کو ہدایات کیں۔ اس خطبے میں آپؓ نے اپنا خواب لوگوں کو سناتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت آپہنچا ہے۔
مدینے میں ایک غلام آپؓ کے پاس آیا جس کا نام ابولولوفیروز تھا اور وہ ایرانی تھا۔ آپؓ سے کہنے لگا کی اس کا مالک اس سے ہر روز بھاری رقم وصول کر لیتا ہے تو آپؓ اس رقم کو کم کروا دیجیے۔ حضرت عمرؓ نے اس سے اس کے کام کی نوعیت پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ لوہار ہے، بڑھئی بھی ہے اور بیل بوٹے بنانا بھی جانتا ہے۔ آپؓ نے دریافت کیا کی وہ دن کی کتنی رقم اپنے مالک کو دیتا ہے تو اس نے بتایا کہ دو درہم روزانہ۔ اس پر آپؓ نے کہا کہ تم جو کام جانتے ہو اس کے مقابلے میں تو یہ رقم زیادہ معلوم نہیں ہوتی۔ اس پر وہ ناراض ہو کے چلا گیا اور اگلے دن وہ مسجد میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ جب حضرت عمرفاروق ؓ نماز پڑھانے لگے تو اس نے دودھاری خنجر سے امیرالمومنین پر چھ وار کیے۔ آپؓ شدید زخمی ہو گئے، آپ کی حالت بہت نازک تھی۔ آپ کو گھر لے جایا گیا، سب کو معلوم ہو گیا کہ آپ کا آخری وقت نزدیک ہے۔
آپؓ ۲۷ ذولحج کو زخمی ہوئے اور تین دن بعد یکم محرم الحرام کو شہادت تا مرتبہ پایا۔ آپؓ کی عمر تقریبا ۶۰ سال تھی۔ آپؓ کا جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھایا۔
آخر میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ حضرت عمر ؓ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام و مرتبہ عطا فرمائے۔ اللہ ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں بھی حضرت عمرفاروق ؓ جیسا حکمران نصیب فرمائے ۔۔۔۔آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں