آج نہیں تو کب؟

 آج نہیں تو کب؟

تسکین فرمان

مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ طوائف ہمارے معاشرے کی پہلی ضرورت بن گئی ہے۔ شاید یہی واحد طریقہ ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں، مروہ اور زینب کو بچا سکتے ہیں۔ میرا ایک سوال ہے کہ ہم جنگل سے کیوں نکل گئے؟ خونخوار درندوں سے بچنے کے لئے؟ ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم جنگل تو چھوڑ آئے ہیں لیکن درندوں کو اپنے ساتھ لے آئے ہیں.

ترقی پکی سڑکیں اور شیشے کی عمارتیں بنانے کا نام نہیں ہے، انسان میں صحیح اور غلط کے درمیان کا فرق ترقی ہے۔ کیا معصوم نابالغ لڑکیوں کو اپنی ہوس کا شکار کر لینا ترقی ہے؟ کیا اس معصوم بچی کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں؟ یا وہ ماں جس نے نو ماہ تک اسے رحم میں رکھا اور اسے اپنے خون سے سینچا جسے اس بھیڑیےنے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے وقت ایک لمحے کے لئے نہ سوچا۔ ایسے خونخوار بھیڑیوں کی جگہ جنگل ہے۔

انسانوں میں نہیں۔ ہاں ، میں ایک لڑکی ہوں اور میں اب اس معاشرے میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی۔ اس طرح کے ظلم و بربریت کا نشانہ بننے سے بہتر ہے کہ پیدائش کے وقت زندہ دفن کر دیا جائے۔ میں انصاف چاہتی ہوں اور جہاں خونخوار درندوں کے لئے جگہ ہے ، انہیں وہاں لایا جائے کیونکہ ہمارے پاس نہ تو انھیں دینے کے لیے خون ہے ، نہ جسم ہے اور نہ ہی مزید کوئی زندگی_

اپنا تبصرہ بھیجیں