عورت ایک ایسی ہستی جسے

عورت ایک ایسی ہستی جسے

ثمرہ اشرف

اللہ رب العزت نے قابل عزت وتکریم جانا اور اس کو ایک اعلی وارفع مقام اور مرتبے سے نوازا حتی کہ جنت اس کے پاؤں تلے رکھ دی ۔جنت ہاں جنت جو کہ کسی بھی مسلمان کے لیے پوری زندگی کا حصول ہے وہ ایک عورت کے قدموں تلے رکھ دی گئی۔اگر عورت اتنی ہی ارزاں ہوتی تو اتنا اعلی درجہ نہ پاتی لیکن بدقسمتی سے عصر حاضرمیں عورت کی عزت وتکریم ریزہ ریزہ ہو چکی ہے اور اس کو محض جسمانی تسکین کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ عورت کے محرم رشتے جو کبھی اس کے محافظ سمجھے جاتے تھے آج ان سے عورت کی عزت محفوظ نہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر آپ کو کتنے ہی ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں جو کسی بھی با ضمیر انسان کے رونگٹھے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔حد تو اس وقت ہو جاتی ہے جب عورت کی عزت کو تار تار کرنے، اس کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بودے بودے جواز پیش کیے جاتے ہیں جیسے کہ ان سب واقعات میں عورت کے لباس، بنا کسی محرم رشتے کے باہر جانے اور گھر سے باہر نکلنے کے اوقات وغیرہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

لیکن افسوس کے ساتھ یہاں نہ تو نو مولود بچی محفوظ ہے ، نہ کوئی لڑکی اور نہ ہی کوئی شادی شدہ کئی بچوں کی ماں حتی کہ قبر میں بھی عورت کی عزت محفوظ نہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عورت کو پردے اور حیادار ہونے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس سے قبل مرد کو بھی نگاہیں جھکا کر چلنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ہم عورت کو حیا دار کرنے میں اس قدر مگن ہو گئے کہ اس بات سے غافل ہو گئے کہ مرد بھی بے حیائی کر سکتا ہے۔لیکن ان سب واقعات کا عورت کے لباس سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ میں نے بہت پردہ دار عورتوں کی عزت بھی نیلام ہوتے دیکھی ہےاور کفن میں لپٹے ہوئے وجود کو بھی اس ہوس کا نشانہ بنتے دیکھا ہے۔جہاں تک گھر سے بغیر کسی محرم رشتے کے نکلنے اور اوقات کار کی بات ہے تو سب لوگ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں آج کل ایک بچی، لڑکی یا عورت گھر کے اندر بھی محفوظ نہیں ۔ کتنے ہی ایسے دلخراش واقعات ہیں جن میں ایک عورت اپنے چچاؤں، ماموؤں، باپ اور بھائیوں کے ہاتھوں گھر میں ہی رہتے ہوئے لٹ گئی۔

افسوس کے ساتھ کیا قبر میں جانے والی عورتیں بھی اپنے ساتھ محرم لے جائیں اور وقت بھی اپنی مرضی سے طے کریں؟؟؟ کیا آپ میں سے کبھی کسی نے کسی مرد کو غیرت کے نام پر قتل ہوتے یا مرتے دیکھا ہے؟؟ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ کیا خاندان کی عزت اور غیرت صرف عورت سے جڑی ہے؟ اس وقت خاندان کی عزت اور غیرت کدھر جاتی ہے جب گھر کا بیٹا کسی اور کی بیٹی کی عزت کا جنازہ نکال کر گھر آتا ہے لیکن اس کو کوئی سزا نہیں دی جاتی کیونکہ وہ بیٹا ہے۔جب ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو عورتیں خاموش رہنا پڈند کرتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ ان کی شنا خت ظاہر نہ ہو کیونکہ ہمارے معاشرے میں زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کو تو بغیر حالات و واقعات جانے قصوروار ٹھہرا دیا جا تا ہے اور اس کو شرمندگی کا احساس دلایا جاتا ہے حالانکہ اس سب میں اس کا کوئی قصور نہیں ہوتا اور جس کو شرمندہ ہونا چاہیے وہ مزے سے بغیر کسی خوف و خطرے کے آزاد گھوم رہا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ عورت بے پردہ گھومے یا ہر وقت گلیوں اور بازاروں کی رونق بنی رہے۔

بلا شبہ ہمارے مذہب نے جومردوخواتین کو ذمہ داریاں سونپی ہیں اور ان کے متعلق جو بھی احکام دیے ہیں وہ اس سب سے بچنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں صرف عورتوں کو ہی نہیں بلکہ مردوں کو بھی یہ باور کروانے کی اشد ضرورت ہے عورت محض جسمانی تسکین کا سامان نہیں اور نہ صرف اپنے گھر کی عورتیں بلکہ ہر عورت قابل عزت وتکریم ہے۔ ایک تنہا عورت معاشرے کے مردوں کی ذمہ داری ہوتی ہے نا کہ موقع۔ ایسے واقعات کے مجرموں کو عبرتناک سزا دی جانی چاہیے تاکہ دوسرا کوئی ایسا جرم کرنے سے قبل ضرور سوچے لیکن افسوس کے ساتھ ہم، مذہب کے نام پر بننے والا دنیا کا پہلا ملک اپنے ہی اسلامی قانون کی پاسداری نہیں کرتےاور اسی لیے مجرم بنا خوف وخطر آزادی سے جرم کر کے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بعد گل چھرے اڑاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں