اردو زبان اور 1973ء کی قراداد

قومی زبان

تحریر: عُمیر اقبال اعوان

اردو زبان اور 1973ء کی قرادا

زبان افکار و خیالات کی ترسیل وترسل کا ایک اہم ذریعہ ہے، ایک دوسرے کی زبان سے واقفیت کے بغیر کما حقہ باہمی تبادلہ خیال اور علمی و ثقافتی افادہ و استفادہ ایک امر ناممکن ہے۔ تو جہان زبانی تبادلے نے علمی ترقی میں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے، وہیں گاؤں نما جدید دنیا میں باہمی تواصل کے ساتھ ساتھ انسان کی اقتصادی زندگی کو بحال کیا ہے۔ 1973ء کی قرارداد میں اُردو کو قومی زبان قرار دیا گیا اور اُسے سرکاری زبان بنانے کی بھی سفارش کی گئی، لیکن افسوس آج تک پاکستان میں انگریزی کو ہی سرکاری زبان کی اہمیت حاصل ہے اورتمام تر نصاب اور سرکاری ریکارڈ بھی انگریزی میں ہی موجود ہے۔اس بات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آج تک ہماری سوچ انگریزوں کی ہی غلامی کر رہی ہے اور انہوں نے آج بھی اپنی زبان کے ذریعے ہمیں اپنا غلام بنایا ہوا ہے۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 73سال مکمل ہو چکے ہیں،لیکن آج تک کوئی بھی حکومت اُردو کو مکمل طور پر سرکاری زبان کی اہمیت نہیں دِلا سکی، ہر آنے والی حکومت یہ وعدہ تو ضرور کرتی ہے کہ اُردو کو فروغ دیا جائے گا،لیکن یہ وعدہ کبھی بھی اپنی پائے تکمیل کو نہ پہنچا۔
بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان میں ایک مخصوص اور محدود مگر موثر گروہ ایک غیر ملکی زبان کے سحر میں گرفتار ہے اور اس کی ترویج میں مسلسل کوشاں ہے۔ اصل میں حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب کی اندھا دھند تقلید نے ہمیں دین سے بہت دور کر دیا ہے۔ آج ہم ’’ماڈر نزم‘‘ کی آڑ میں بے حیائی‘ فحاشی‘ عریانی کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ اپنی قومی زبان اردو کے برعکس انگریزی تہذیب اور زبان و کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ نفسا نفسی ‘ بے حسی اور خود غرضی کے اس دور میں نہ کسی کو مذہب کی فکر ہے اور نہ ثقافت عزیز ہے۔ افسوس کہ ہم ’’دین‘‘ کی بجائے انگریزی تہذیب و زبان اور کلچر کو اپنانا باعث فخر گردانتے ہیں چونکہ ہمیں اس کلچر میں بے راہ روی اور عیاشیوں کے سامان وافر مقدار میں میسر ہیں۔
افسوسناک بات تو یہ ہے کہ آج تک سندھ اور خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں سیاست دان حلف بھی اپنی علاقائی زبان پشتو اور سندھی میں اٹھاتے رہے ہیں، لیکن اُردو کے زوال کی وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمران نہیں،بلکہ پاکستان کا ہر ایک شخص ہے۔آج ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُس کے بچے انگریزی میڈیم سکول سے ہی تعلیم حاصل کریں اور اور اُنہیں اُردو آئے نہ آئے، لیکن انگریزی ضرور بولنی آتی ہو، کیونکہ ہمارے ہاں جو شخص ٹوٹی پھوٹی اُردو بولتا ہے اُس کا تو نا ہی کوئی شخص مذاق اڑاتا ہے اور نا ہی اُسے کوئی شخص جاہل سمجھتا ہے، لیکن اس کے برعکس اگر کوئی شخص کبھی انگریزی کا کوئی جملہ غلط بول جائے تو محفل میں موجود تمام لوگ ہی اُسے جاہل قرار دے دیتے ہیں۔پاکستان میں کسی شخص کی اہلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتاہے کہ وہ انگریزی کس قدرعمدہ بولتا ہے اور اُسی شخص کو قابل بھی سمجھا جاتا ہے اور اُسے اُردو بولنے والوں پر فوقیت بھی دی جاتی ہے۔ آج تمام تر دفاتر میں بھی صرف انگریزی زبان بولنے والوں کا ہی راج ہے کسی بھی ایسے شخص کو قطعاً نوکری پر نہیں رکھا جاتا، جس کی انگریزی کمزور ہو یہ ہی وجوہات ہیں کے روز بروز اُردو زبان زوال کا شکار ہوتی جا رہی ہے، اور اُسے وہ مقام نہیں مل پا رہا، جس کی وہ مستحق ہے۔ہمارے ملک کے معاشی حالات خراب ہونے کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج بھی انگریز ہمارے ذہنوں پر حکومت کر رہے ہیں۔ اگر کسی بھی قوم کی زبان کو اُن سے چھین لیا جائے تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ قوم بھی تباہ ہو جاتی ہے اور ہمارے ساتھ بھی کچھ یوں ہوا ہے۔ ہم اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں اور اب ہم ایک دھندلی سی شناخت لئے بس انگریزوں کی پیروی کرنے میں مگن ہیں
آج ایک غیر ملکی زبان کو اپنا کر ہم اپنی ثقافت کو اپنے ہی ہا تھوں سے لٹا رہے ہیں۔ وہ ثقافت جس کی گود میں ہماری قومیت کی تعمیر ہوئی تھی باعث تعجب بات تو یہ ہے کہ اپنی ثقافت کو مٹتے اور برباد ہوتے دیکھ کر بھی نہ ہماری آنکھوں میں آنسو ہیں اور نہ دلوں میں درد۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے مغربی تہذیب اور کلچر کی اندھا دھند پیروی کی وجہ سے ہمارے دل زنگ آلود ہو گئے ہیں کہ ہم اچھائی برائی میں تمیز کر نے کی قوت سے محروم ہو چکے ہیں۔ کیا ہم دیکھ نہیں رہے کہ ثقافت کی کمزوری سے ہماری قوم میں خود غرضی‘ سہل انگاری‘ فرض ناشناسی‘ اخلاقی کمزوری اور اخلاق کی پستی کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب صرف ایک بے پناہ احساس کمتری کا سیلاب ہے جس کے مظاہرے ہمیں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ یقین جانئے کہ بے حسی کے اس دور میں اپنی قومی زبان اردو کی حفاظت کرنا ۔ ثقافت کو بچانا ہمارا اولین فریضہ ہے۔ ہماری جن صاحب دل اور محب وطن بزرگ ہستیوں نے اردو زبان کے لیے خدمات سر انجام دی ہیں وہ کبھی بھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

اُردو سے پہلے اقوام متحدہ کی چھے زبانیں تھی جن میں انگریزی، عربی، چینی، فرانسیسی، روسی اور ہسپانوی شامل تھی اور اب ساتویں زبان اُردو شامل کی گئی ہے اور گزشتہ دنوں تاریخ میں پہلی بار اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا بیان اُردو میں بھی شایع کیا گیا.
ہر ملک کی قومی زبان اُس ملک کے معاشرتی تہذیبی اور ثقافتی اقتدار کے بارے میں بتاتی ہے اور یہ قومی زبان ہی ہے جو ملک کے تمام لوگوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے اس کو لشکری زبان بھی بولا جاتا ہے۔ جب مسلمان ہجرت کر کے ہندوستان آئے تو اُن کی زبان عربی اور فارسی تھی، لہٰذا وہ بات چیت میں زیادہ تر اپنی زبان ہی کا استعمال کرتے تھے، کیونکہ وہ پوری طرح مقامی زبان سے واقف نہیں تھے،اِس لئے اظہارِ مقصد کے لئے مختلف زبانوں کے الفاظ استعمال کرتے اور اِسی طرح اُردو زبان کا آغاز ہوا۔اُردو زبان درحقیقت مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے اور یہی وجہ بھی ہے کہ اس میں اکثر اوقات عربی اور فارسی کے لفظ بھی پائے جاتے ہیں۔یوں تو پاکستان کے مختلف صوبوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، جیسے کہ پنجابی، سندھی، پشتو، لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اُردو ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ اس ملک میں اُس کی قومی زبان کو اہمیت دی جائے، جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی زبان میں ہی ترقی کی ہے۔ اگر ہم بات کریں امریکہ کی تو آج انہوں نے اپنی زبان کے ذریعے دُنیا بھر میں قبضہ کیا ہوا ہے اور آج کل کے زمانے میں انگریزی زبان سیکھنا اور بولنا ہر شخص کی ضرورت نہیں،بلکہ مجبوری بن گئی ہے۔ ہماری قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ بہت عرصے سے ہماری قومی زبان زوال کا شکار ہے اور اب ہم انگریزی زبان کو اُردو پر فوقیت دیتے ہیں۔ہمارے ہاں جو شخص انگریزی بول سکتا ہے صرف وہ ہی پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے اور اب تو عالم یہ ہے کہ آج کل کی نوجوان نسل اُردو بولنے کو اپنی توہین سمجھتی ہے۔ ہماری زبان اُردو جس کے فروغ کے لئے سر سید احمد خان نے دن رات محنت کی اور جس زبان نے ہمیں مرزا غالب اور علامہ اقبالؒ جیسے عظیم شاعر دیئے وہ ہی زبان آج اپنی اہمیت کھو چُکی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں