کالے سونے کی تلاش

کالے سونے کی تلاش

تحریر: عُمیر اقبال اعوان

“”خام تیل پر انحصار سے معیشت کے پھیلاؤ تک۔””

تیل خدا کی ویسی ہی نعمت ہے جس طرح پانی، زراعت و دیگر معدنیات نعمت ہیں۔
آپ کے پاس تیل تو نہیں ہے مگر گنے کی پیداوار میں پوری دنیا میں آپ کا پانچواں نمبر ہے۔
کیا آپ سستی چینی حاصل کر پا رہے ہیں۔۔۔؟
آپ کے پاس تیل نہیں پر گندم کی کاشت میں آپ کا دنیا بھر میں آٹھواں نمبر ہے۔
تو کیا آپ کو سستی روٹی میسر ہے۔۔۔؟
آپ کے پاس تیل نہیں مگر چاول کی پیداوار میں آپ دسویں نمبر پہ ہیں مگر کیا عام شہری اچھا چاول باسانی خرید سکتا ہے۔۔۔؟
کپاس کی پیداوار میں آپ چوتھا بڑا ملک ہیں پر کیا ہر شہری بآسانی تن ڈھانپنے کا کپڑا خرید سکتا ہے۔۔۔؟
اگر دنیا میں تیل کی پیداوار کے حوالے سے 10 بڑے ممالک کی فہرست نکالیں تو معلوم ہوگا کہ ان دس میں سے اس وقت دو دیوالیہ ہیں (ایران، وینزویلا) ، ایک تباہ ہوچکا (عراق) اور ایک 30 سال قبل کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا (سوویت یونین)۔
جن عربوں کے پاس تیل ہے وہ بھی کسی کے بالواسطہ غلام ہیں۔
باقی امریکہ کینیڈا وغیرہ کے بارے میں اگر آپ کو لگتا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار کیوجہ سے آج اس مقام پہ کھڑے ہیں تو یقین جانئے آپ کو اس بھیانک خواب سے جاگنے کی سخت ضرورت ہے۔

سب سے پہلے دو سوال۔ دنیا میں پہلی بار تیل کے لیے کہاں ڈرل کیا گیا تھا؟ اور دوسرا یہ کہ عالمی تخمینوں کے مطابق کس ملک کے پاس خام تیل کے سب سے زیادہ ذخائر موجود ہیں؟

سب سے پہلے تیل چوتھی صدی میں چین میں ڈرل کیا گیا تھا۔ اس ڈرلنگ کے لیے کوئی مشینیں موجود نہیں تھی اس لیے ایسا لمبے لمبے بانسوں کی مدد سے سے کیا گیا اور کالے رنگ کا چپکنے والا مادہ نکالا گیا جو بعد میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوا۔

الرجل ویب سائٹ کے مطابق 1908 میں خلافت عثمانیہ کے زمانے میں دمشق سے مدینہ منورہ تک ریلوے لائن اور دیگر تعمیری کام ہوئے تھے لیکن اس کے علاوہ باقی خطہ خستہ حالی کا شکار تھا۔
سعودی عرب کے شہر دمام میں 1935 میں ایک کنواں کھودا گیا۔ توقع کے بر خلاف انتہائی محدود مقدار میں گیس اور تیل کی موجودگی کے شواہد ملے۔

سٹینڈرڈ آئل آف کیلی فورنیا کی ناکامی کے بعد 1936 میں ٹیکساس آئل کمپنی نے 50 فیصد رعایت کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ پانچ سال کے طویل عرصے میں ہر طرح کی امید دم توڑنے لگی۔

لیکن 4 مارچ 1938 کو ہر چیز یکسر بدل گئی۔ اس دن کنویں سے 1.5 کلومیٹر کی گہرائی پر ایک ہزار 585 بیرل یومیہ تیل نکلنا شروع ہو گیا.

الملک عبدالعزیز کے بادشاہ بننے کے بعد ان کی ایک ہی خواہش تھی کہ  کسی طرح یہ خطہ ترقی کر جائے اور اس کے تمام شعبے مستحکم ہو جائیں۔

شاہ عبد العزیز ابتدا میں برطانوی حکومت کے پاس گئے اور تیل کے ذخائر کی کھوج کے لیے فنڈ سمیت اقتصادی ترقی کے لیے پانچ لاکھ پاؤنڈ کی مالی مدد کی درخواست کی۔

برطانیہ نے یہ کہتے ہوئے بادشاہ کی مدد کرنے سے انکار کردیا کہ یہ وقت مالی مہم جوئی کے لیے موزوں نہیں ہے اور یہ کہ برطانیہ اس وقت ایسے ملک میں رقم ضائع کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جو عالمی سطح پر شہرت نہیں رکھتا۔

اس کے بعد سعودی فرمانروا نے امریکہ کا دورہ کیا۔ 29 مئی 1933 کو سعودی عرب اور سٹینڈرڈ آئل آف کیلی فورنیا نامی امریکی کمپنی کے مابین تیل کی تلاش کے لیے معاہدہ ہوا۔ انتظامی امور چلانے کے لیے 8 نومبر کو ایک ماتحت کمپنی قائم کی گئی جس کا نام ’کیلی فورنیا عرب سٹینڈرڈ آئل کمپنی‘ رکھا گیا-
14 فروری 1945 کو سعودی بادشاہ اور امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ کے مابین ہونے والی تاریخی ملاقات سے سعودی عرب اور امریکہ کے مابین معاشی اور تیل کے معاہدوں کو تقویت ملی۔

1950 کے آغاز تک سعودی حکومت نےآرامکو کے منافع کا 50 فیصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی اور پھر بتدریج 1973 میں کمپنی کا 25 فیصد حاصل کیا جو اگلے سال 60 فیصد تک پہنچ گیا ۔
1980 میں سعودی حکومت نے آرامکو کمپنی کا کنٹرول باضابطہ طور سنبھال لیا۔ اس کے بعد ایک نئی کمپنی آرامکو سعودی کا قیام ہوا جس کے سربراہ علی بن ابراہیم النعمی تھے۔

1984 میں وہ کمپنی کے پہلے سعودی صدر بنے۔ پھر 1988 میں سعودی آرامکو کے پہلے صد اور اس کے سی ای او کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے مطابق اس کے ممبران ممالک میں 2018 کے اختتام تک کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ خام تیل کے ذخائر لاطینی امریکہ کے ملک وینیزویلا کے پاس ہیں جبکہ دوسرا اور تیسرا نمبر بالترتیب سعودی عرب اور ایران کا ہے۔

وینیزویلا کے پاس 302.81 بلین بیرل تیل کے ذخائر ہیں جبکہ سعودی عرب کے پاس یہ ذخائر 267.03 بلین بیرل ہیں۔ ایران 155.60 بلین بیرل کے ساتھ تیسرے اور عراق 145.02 بلین بیرل کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

حالیہ اندازوں کے مطابق اوپیک کے پاس دنیا کے تیل کے ذخائر کا 79.4 فیصد حصہ ہے جس میں سے زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں۔
اب یہاں زرا اپنے ملک پاکستان پر نظر دوڑائیں۔
آپ کا ملک پاکستان برف پوش پہاڑوں سے لیکر سبز میدانوں صحراؤں اور خوبصورت سمندری کناروں پہ مشتمل ہے اس کا کیا فائدہ اٹھایا۔۔۔؟ بلکہ دن رات اسے تباہ کر رہے ہیں۔
اگر تیل دریافت ہوا بھی تو وہ بھی ترینوں، چوہدریوں، سومروں، ملکوں، خانوں، گیلانیوں، اور سرداروں والی اشرافیہ پہ مشتمل 60، 70 گھرانوں کی چمکی ہوئی قسمت کو مزید چمکائے گا۔
جبکہ آپ تب بھی اپنی قسمت و نصیب کے نچوڑے تیل کو دیکھ کر ہی آنکھیں ٹھنڈی کر رہے ہونگے۔
ممالک تیلوں سے نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ترقی کرتے ہیں۔
عوام دریافتوں سے نہیں انصاف سے خوشحال ہوتے ہیں۔
لہذا خوابوں کی دنیا چھوڑئیے اور اصل مدعا پہ بات کیجئے۔
یہاں تو آدھے عوام حکومت کو کوسنے اور بقیہ آدھے حکومت کی اندھی تقلید میں توانائی خرچ کرنے پہ لگے ہیں مگر معلوم کسی کو نہیں کہ ہماری اصل ضروریات ہیں کیا۔

جو کچھ میسر ہے اس پہ تو انصاف کر لیجیئے۔ ہاتھ کے نوالے کو چھوڑ کر آسمان پہ اڑتی مرغابی پہ رال ٹپکانے والوں کا ہاتھ کا نوالہ بھی کوّا لے اڑا کرتا ہے۔ لہذا پہلے اس شے سے تو استفادہ حاصل کرنا سیکھ لیں جو میسر ہے.۔

اپنا تبصرہ بھیجیں