ہمارا معاشرہ اور گداگری

ہمارا معاشرہ اور گداگری
تحریر : سائرہ امجد

رب سے مانگنے والے کبھی مایوس نہیں ہوتے اور جو لوگ ہر کسی سے چیزیں مانگتے رہتے ہیں انہیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا. لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے کو ہی بھیک کہا جاتا ہے. بھیک مانگنے کی عادت انسان کی غیرت کو ختم کر دیتی ہے. اس سے خود داری ختم ہو جاتی ہے اور شرم وحیا جاتی رہتی ہے. بہت سے لوگ خود کا حلیہ بگاڑ کر لوگوں کی ڈانٹ پھٹکار سن کر بھیک مانگتے ہیں. ان کو اپنی عزت نفس کا خیال نہیں ہوتا. لوگ پہلے تو ان کو برا بھلا کہتے ہیں پھر کسی چیز سے نوازتے ہیں. لیکن ان لوگوں کو شرم نہیں آتی. نہ صرف جوان اور بوڑھے بلکہ بچے بھی اس کا شکار ہیں. بھیک مانگنا بہت بری لعنت ہے. جس کسی کو ایک دفعہ یہ لت لگ جاتی ہے وہ کبھی اس کو ختم نہیں کر پاتا. ان کے پاس ضروریات زندگی کی ہر آسائش ہوتی ہے مگر اپنی عزت نفس کو ختم کر کے مال جمع کرنے کی دوڑ میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں. ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ “جس نے لوگوں سے ان کا مال زیادہ جمع کرنے کی نیت سے مانگا وہ آگ کے انگار مانگ رہا ہے, چاہے کم مانگے یا زیادہ. ” حجتہ الوداع کے موقع پر دو افراد نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے, آپ ﷺ اس وقت صدقات کر رہے تھے ان دونوں نے بھی مانگا. آپ ﷺ نے ایک نظر دونوں پر ڈالی. دیکھا کہ یہ تندرست کمانے کے قابل ہیں. آپ ﷺ نے فرمایا “اگر میں چاہوں تو اس میں سے تم دونوں کو بھی دے سکتا ہوں لیکن سن لو! کہ اس میں کسی مال دار اور کمانے کے لائق تندرست و توانا کا کوئی حصہ نہیں.” کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں کالج سے واپس آ رہی تھی. گاڑی تھوڑی دیر کے لیے راستے میں کھڑی ہوئی. ایک عورت گاڑی کے پاس آکے اور ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگنے لگ گئی کہ اللہ اور اس کے رسول کے واسطے مجھے کچھ دو میں بیوہ ہوں. میری جوان بیٹیاں ہیں ان کا کوئی آسرا نہیں. میرے گھر کا بجلی کا بل ادا ہونے والا ہے. اس کی باتوں میں اتنا درد تھا کہ میری آنکھیں بھر آئیں اور میرے پاس جو پیسے تھے اسے تھما دیے لیکن اس نے زیادہ پیسوں کی طلب کی. جو کہ میں نہ دے سکی مجھے افسوس ہوا کہ میں اس کی مدد نہیں کر سکی. خیر میں نے یہ سارا واقعہ گھر آ کر بتایا اور میرے گھر والوں نے بتایا کی بھیک مانگنا گناہ ہے. اس عورت کے ہاتھ پاو¿ں سلامت تھے. وہ اپنے گھر میں رہ کر اپنی بیٹیوں کے ساتھ مل کر محنت کر سکتی تھی. آج کل بہت سے ایسے فلاحی ادارے ایسے لوگوں کو کام شروع کرنے کے لیے بغیر غیر سود کے آسان شرائط پر قرض دے رہے ہیں. لیکن اس نے یہ آسان طریقہ اپنایا ہے خود اپنے ہاتھ سے نہیں کمانا بلکہ لوگوں کے آسرے پر رہنا ہے. ایسے لوگ جو خود کما سکتے ہیں اور مانگنے کے حق دار نہیں ان کو بھیک دینا بھی گناہ ہے. آئے روز ہمیں یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلاں جگہ کسی نے بچے کو اغواءکر لیا۔ اس کا کوئی پتہ نہیں. کچھ لوگوں نے یہ کاروبار بنایا ہے جو کہ بچوں کو اغواءکر کے ان کا حلیہ بدل دیتے ہیں اور ان کو مانگنے پر لگا دیتے ہیں. ان کو درگاہوں پر ہاتھ پاو¿ں توڑ کر بٹھا دیا جاتا ہے تا کہ زائرین ان کو کچھ عنایت کریں. اس میں کسی حد تک ہم خود بھی شامل ہیں. بھیک مانگنے والوں کو پیسے دیتے ہیں کہ ہمارے حق میں دعا کریں. ہمیں لگتا ہے کہ اس طرح ان کو کچھ دینے سے ہماری مرادیں پوری ہوں گی. اس سے ان معصوم بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے. وہ عمر جو کہ ان کے کھیلنے کودنے کی ہے قلم پکڑنے کی ہے. اس قلم کی جگہ انہیں کاسہ پکڑا دیا جاتا ہے. ہمیں اس بھیک مانگنے کی لعنت کو ختم کرنا ہو گا. ان معصوم جانوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچانا ہو گا. ان کو اچھا شہری بنانا ہو گا. یہ ہماری قوم کا سرمایہ ہیں. اس لیے ان کا مستقبل اچھا بنا کر ہم اپنی آنے والی نسل کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں