صارفین کا نجی ڈیٹا جمع کرنے پر گوگل کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا

لاہور (نیوز ڈیسک) گوگل کو ’’انکوگنیٹو موڈ‘‘ یعنی پوشیدہ رہ کر سرچنگ کے آپشن کا فائدہ اُٹھا کر سرفنگ کرنے والے صارفین کو ٹریک کرنے پر 5 بلین ڈالر کے ہرجانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں تین صارفین نے گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ گوگل انہیں اُس وقت بھی خفیہ طور پر ٹریک کرتا ہے اور ڈیٹا جمع کرتا ہے جب وہ انکوگنیٹو آپشن یعنی پوشیدہ رک کر سرچنگ کا آپشن استعمال کر رہے ہوتے ہیں یا صارفین کے اپنے طور پر پرائیویسی سیٹ کرنے کے باوجود گوگل ٹریکنگ جاری رکھتا ہے۔

صارفین نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ گوگل کا پرائیوٹ ڈیٹا ٹریکنگ بزنس ہے جو صارفین کی جانب سے پرائیویسی سیٹنگ سخت کرنے یا کروم میں پوشیدگی کا طریقہ استعمال کرنے کے باوجود نجی معلومات اور دیگر براؤزرز تک رسائی حاصل کرکے ڈیٹا جمع کرتا رہتا ہے۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ضلعی جج نے اس مقدمے کے فیصلے میں لکھا کہ گوگل نے صارفین کو پیشگی مطلع نہیں کیا تھا کہ وہ انگوگنیٹو موڈ میں بھی صارفین کا مبینہ ڈیٹا اکٹھا کرنے میں ملوث ہے جس پر گوگل کو سخت قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو کہ 5 بلین ڈالر تک کے ہرجانے کا بھی ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب گوگل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انکوگنیٹو کا مطلب پوشیدہ نہیں ہے اور موڈ کے استعمال کے ساتھ بھی صارف کی سرگرمیاں اُن ویب سائٹس پر بھی نظر آسکتی ہے جو وہ دیکھتے ہیں جب کہ کسی بھی تیسرے فریق کے تجزیات یا اشتہارات کی خدمات وزٹ کردہ ویب سائٹ استعمال کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ گوگل نے رواں سال کے شروع میں کہا تھا کہ وہ تیسری پارٹی سے باخبر رہنے والے کوکیز کو مرحلہ وار بنا رہے ہیں اور وہ کوکیز کو کسی ایسی جگہ سے تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے جو ناگوار ہوسکتا ہے حالانکہ اس سے کمپنی کے اشتہاری کاروبار پر اثر پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں