پلاسٹک کے برتن میں کھانا کھانے کے خطرناک نقصانات

کراچی (نیوز ڈیسک) پلاسٹک کرہ ارض کے لیے خطرناک ترین شے ہے اور اس کے برتن انسانی جسم کے لیے سخت نقصان دہ ہیں، پلاسٹک کے برتنوں میں کھانا کھانے مطلب ہے کہ پلاسٹک کے ذرات کھانے میں شامل ہوجاتے ہیں جو ہمارے جسم میں پہنچ جاتا ہے۔

کنزیومر سولیڈیرٹی سسٹم کے صدر محسن بھٹی نے اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو باخبر سویرا میں شرکت کی اور پلاسٹک کے برتنوں کی تباہ کاریوں میں بتایا۔

محسن بھٹی کا کہنا تھا کہ اسپتال کا فضلہ جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے، ری سائیکل کیا جاتا ہے اور یہ انتہائی خوفناک بات ہے۔ اسپتال میں استعمال ہونے والی ڈرپس، یورین بیگز، بلڈ بیگز اور دیگر سامان جسے جلا کر راکھ کردینا چاہیئے دوبارہ استعمال کے قابل بنائے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہی صورتحال فصلوں میں استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات کی بوتلوں کے ساتھ بھی ہے۔

محسن بھٹی کے مطابق پلاسٹک کے برتنوں کا استعمال نہایت خطرناک ہے کیونکہ ہمیں نہیں علم کہ وہ کس پلاسٹک سے بنایا گیا ہے۔ ان برتنوں کو چیک کرنے کے لیے نہ تو کوئی ادارہ ہے، نہ ہی ان کے بنانے کے لیے کوئی اسٹینڈرڈز مقرر کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے گھروں میں پلاسٹک کی بوتلوں، ڈبوں اور کنٹینرز کا استعمال عام بات ہے۔ ان برتنوں میں نہ صرف گرم کھانا ڈالا جاتا ہے بلکہ اسے مائیکرو ویو اوون میں بھی گرم کیا جاتا ہے۔

گرم کرنے سے پلاسٹک کے اجزا کھانے میں شامل ہوجاتے ہیں جو ہمارے جسم میں چلے جاتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی سلو پوائزننگ ہے جو کینسر سمیت دیگر بیماریوں کی شکل میں اپنا اثر دکھا سکتی ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ہر بالغ شخص سالانہ پلاسٹک کے 50 ہزار ذرات نگل رہا ہے، پلاسٹک کرہ ارض کو کچرے کے ڈھیر میں بدلنے کے بعد اب ہمارے جسم تک راستہ بھی بنا چکا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں