پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کی عمر کے 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، رپورٹ

اسلام آباد (محمد جواد بھوجیہ) عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کی عمر کے 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں سالانہ تقریبا 166،000 افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جو روزانہ چار سو اسی افراد بنتے ہیں جن کو پورا کرنے کیلئے تمباکو انڈسٹری نوجوانوں کو ٹارگٹ کرتے ہے ۔پاکستان میں نوجوانوں اور خواتین میں تمباکو نوشی کی شرع میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کیلئے ہر سال اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو پاکستان کی 64٪ آبادی پر مشتمل ہے اور کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کے لئے آسان ہدف ہے۔۔ نوجوانوں کو بچانا بہت زیادہ اہم ہے کیوں کہ پاکستان دنیا میں نوجوانوں کی تعداد کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے اور تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں۔ ایک رائے پیش کی گئی ہے کہ نوجوانوں کے پاس چونکہ کثیر مالی وسائل نہیں ہوتے ہیں لہذا وہ قیمتوں میں اضافے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اگر قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو وہ سگریٹ نوشی شروع کرنے سے دور رہیں گے۔ انہوں نے تمباکو سے متعلق بیماریوں کے اخراجات کا بھی ذکر کیا جو کہ فی لوقت تمباکو کی مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔اگر پاکستان میں سگریٹ نوشی کے اس رجحان کے آگے پل نہ باندھا گیا تو آئیندہ سالوں میں سگریٹ نوشی سے پیدا امراض سے مرنے والوں کی تعداد دگنا ہوجائیگی،وہیں رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سموکر والدین بچوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان کی بڑی وجہ ہیں وہیں دوست،سماجی مسائل بھی سگریٹ نوشی کی طرف مائل کرتے ہیں۔دنیا بھر میں 50 لاکھ افراد سالانہ سگریٹ نوشی سے پیدا امر اض کی وجہ سے مرجاتے ہیں یعنی ہر دس میں سے ایک سگریٹ نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں