پاکستان میں پہلی مرتبہ ” اسکل میپنگ پراجیکٹ” کا آغاز

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی صوبے میں “اسکل میپنگ پراجیکٹ” کا آغاز کر دیا گیا، جس کے تحت تعین کیا جاسکے گا کہ کس علاقے میں کس لیبر فورس کی کتنی تعداد موجود ہے۔

فنی تعلیم اور تربیت کے لئے پنجاب حکومت کا اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہنرمند اور تربیت یافتہ افراد کا ڈیجیٹل ڈیٹا بینک بنانے کا فیصلہ کرلیا، پہلی مرتبہ کسی صوبے میں “اسکل میپنگ پراجیکٹ” کا آغاز کر دیا گیا۔

ٹیوٹا (ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی) اور اربن یونٹ کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط کردیئے گئے ، چئیرپرسن ٹیوٹا علی سلمان صدیق اور سی ای او اربن یونٹ محمد عمر مسعود نے دستخط کئے۔

چئیرپرسن ٹیوٹا علی سلمان نے کہا اسکل میپنگ پراجیکٹ اپنی نوعیت کا منفرد اور پہلا منصوبہ ہے، تعین کیا جاسکے گا کہ کس علاقے میں کس لیبر فورس کی کتنی تعداد موجود ہے، لیبر کہاں پر کم ہے کہاں پر زیادہ؟ مکمل ڈیجیٹل میپنگ ہو گی۔

علی سلمان کا کہنا تھا کہ صوبے میں انڈسٹری کی بنیاد پر تربیت یافتہ افراد کی تعداد کا جائزہ لیا جائے گا، متعلقہ علاقوں میں لیبر کی ضرورت کے مطابق کورسز ڈیزائین اور ان کا اجراء ہوگا۔

اس منصوبے کے ذریعے فنی اور ووکیشل تعلیم کو وژن 2023 کے تحت عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے ، معاہدہ طلبہ کے بہتر مستقبل کے لئے اہم ثابت ہوگا، دونوں ادارے ریسرچ،انفارمیشن اور ڈیٹا شئیرنگ میں معاونت کریں گے ، فنی تعلیم کے فروغ کے لئےایک دوسرے کے وسائل استعمال کر سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں