میو اسپتال لاہور، سیکیورٹی گارڈ کے ہاتھوں آپریشن، متاثرہ خاتون زندگی کی بازی ہار گئی

لاہور (نیوز ڈیسک) میو اسپتال میں سیکیورٹی گارڈ سے آپریشن کروانے والی خاتون پندرہ روز بعد دارِ فانی سے کوچ کرگئی، جس کی تصدیق متوفیہ کے اہل خانہ نے بھی کی ہے۔

لاہور کے میو اسپتال میں سیکیورٹی گارڈ کے ڈاکٹر بن کر مریضہ کے آپریشن کے معاملے نے اسپتال انتظامیہ کی نااہلی سے پردہ اٹھایا تھا، واقعے میں متاثرہ خاتون شمیم بی بی پندرہ روز تک زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گئی۔

متاثرہ خاتون کے دنیا سے رخصت ہونے کی تصدیق ان کے بیٹے شفاعت علی نے بھی کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شمیم بی بی کو کمر پر زخم کے باعث میو اسپتال علاج کی غرض سے لایا گیا تھا، اس دوران اسپتال میں وحید بٹ نامی سیکیورٹی گارڈ نے جعلی ڈاکٹر بن کر خاتون کا آپریشن کر ڈالا۔

متاثرہ خاتون کے بیٹے نے اپنی والدہ کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گزشتہ شام سے میو اسپتال انتظامیہ نے میری والدہ کی لاش سرد خانے میں رکھی ہوئی ہے۔

شفاعت علی کے الزام پر اسپتال انتظامیہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لاش کو صرف پوسٹ مارٹم کےلیے سرد خانے میں رکھا ہے، کیوں کہ قانونی وجوہات کے باعث متوفیہ کا پوسٹ مارٹم کرنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ 17 مئی کو ایمرجنسی میں خاتون کو کمر میں زخم کے علاج ‏کے لیے لایا گیا تھا، گارڈ ڈاکٹر بن کر خاتون کے لواحقین سے ملا اور آپریشن پر راضی کیا، آپریشن ‏کے بعد گھر میں پٹی کرنے کی اجرت 500 روپے مقرر کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں