تابوت سکینہ

تابوت سکینہ

حافظ اویس ستار

یہ تابوت شمشاد کی لکڑی کا ایک صندوق تھا جو حضرت آدم علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ یہ آپ کی آخرِ زندگی تک آپ کے پاس ہی رہا۔ پھر بطور میراث یکے بعد دیگرے آپ کی اولاد کو ملتا رہا۔ یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ملا اور آپ کے بعد آپ کی اولاد بنی اسرائیل کے قبضے میں رہا۔ اورجب یہ صندوق حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مل گیا تو آپ اس میں توراۃ شریف اور اپنا خاص خاص سامان رکھن لگے۔ تابوتِ سکینہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ان کی مقدس جوتیاں اور حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی، توراۃ کی تختیوں کے چند ٹکڑے ،کچھ من و سلویٰ، اس کے علاوہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی صورتوں کے حلیے وغیرہ سب سامان تھے

جب بنی اسرائیل اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرنے لگے اور کھلم کھلا وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ نے انہیں منع کیا تھا تو یہ تابوت ان سے ایک جنگ کے دوران میں کھو گیا اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا- یہ تابوت حضرت طالوت کے زمانے میں واپس مل گیا
اسی بارے میں قرآن میں بھی ارشاد ہے،”ان لوگوں سے ان کے نبی نے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین قلب کا سامان ہے اور وہ کچھ اشیاء بھی ہیں جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے اس کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور بلاشبہ اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہویہ تابوت جب تک مشرکین کے پاس رہا تب تک اس کی وجہ سے ان پر مشکلات نازل ہوتی رہیں اور آخر کار تنگ آکر انہوں نے اسے ایک بیل گاڑی پر رکھ کر اپنے علاقے سے باہر نکال دیا اور فرشتوں نے اس بیل گاڑی کو ہنکا کر واپس بنی اسرائیل تک پہنچا دیا اور غالبا”اسی بات کی طرف قرآن پاک میں بھی اشارہ کیا گیا ہے

حضرت داؤد کے زمانے تک اس تابوت کو رکھنے کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں تھا اور اس کے لیے پڑاؤ کی جگہ پر ایک الگ خیمہ لگا دیا جاتا تھا- حضرت داؤد نے خدا کے حکم سے خدا کا گھر بنانا شروع کیا. جو عین اس مقام پر ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے-لیکن یہ عالی شان گھر آپ کے بیٹے حضرت سلیمان کے عہد میں مکمل ہوا اور اس کو ہیکل سلیمانی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس گھر کی تعمیر کے بعد تابوت سکینہ کو یہاں پورے احترام کے ساتھ رکھ دیا گیا۔ اور اس طرح یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا۔ بعد کے زمانے میں ہونے والی جنگوں نے اس ہیکل کو بہت نقصان پہنچایا لیکن بابل کے بادشاہ بخت نصر (نبو کد نضر) نے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اس کو آگ لگا دی، وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ ساتھ تابوت سکینہ بھی لے گیا تھا۔ اس تباہی کے نتیجے میں آج اصلی ہیکل کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ ان تمام تباہیوں کے نتیجے میں تابوت سکینہ کہیں غائب ہو گیا اور اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔

آج بھی بہت سارے ماہر آثار قدیمہ اور خصوصاً یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے ماہر اس کی تلاش میں سرکرداں ہیں تاکہ اس کو ڈھونڈ کر وہ اپنی اسی روحانیت کو واپس پا سکیں جو کبھی ان کو عطا کی گئی تھی۔ تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا، ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق اس کو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے- بہرحال کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے۔ ایک بزرگ کے بقول یہ تابوت قیصرانی قبیلے کے علاقے غربن میں موجود ہے۔ غربن پاکستان کے ضلع ڈیرہ غازیخان کی ایک تحصیل تونسہ شریف میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں