انصاف کہاں دب گیا

انصاف کہاں دب گیا

جاوید علی

ہر ملک میں عدالتیں صرف اس لئے قائم کی جاتی ہیں کہ لوگوں کو انصاف فراہم کیا جائے- عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں خواہ وہ حکومت غصب کرے یا کوئی ادارہ یا کوئی شہری غصب کرے تو عدالتیں بیچ میں آ کر سب کو سب کی حدود میں رکھتیں ہیں- جب لوگ عدالتوں سے نا امید ہو جائیں تو وہ قانون کو آڑے ہاتھوں لیتے اور تجیاں بکھیرتے ہیں اور خود فیصلہ کرنے کا راستہ اپناتے ہیں-

 پنڈی بھٹیاں کے ایک گاؤں میں لڑائی اس بنا پر ہوں کہ چچا نے گیارہ ایکڑ زمین کا اپنے ایک بھائی کے بیٹوں کے نام کروا دی اور دوسرے بھائی کے بیٹوں نے لڑائی کی تو ایک کزن ٹانگوں سے مفلوج ہو گیا اور معاملہ تھانہ پہنچا اور صلح ہو گئی- تقریبا چار ماہ بعد ان کے مابین دوبارہ لڑائی ہوئی جس کی گھن گرج میرے کانوں نے سنی دس بجے معلوم ہوا اور میڈیا پر خبر چلی کہ “سرفراز نے عمران کو قتل کر دیا” اس کے بعد پولیس والوں مجرموں کو گرفتار کر لیا- قاتل کو تقریبا دس راتیں تو گھر بھیجا جاتا رہا بعد میں پبلک ریزنٹمنٹ سے اسے تھانہ میں رکھا گیا

ایک غریب کی لڑکی کا علاقے کے وڈیرے کا پیارا ریپ کرتا ہے، وہ بیچارہ چوری چھپے دائیں بائیں اس ظلم کے خلاف فریاد کی کوشش کرتا ہے، وڈیرہ اس کا منہ بند کرنے کے لیے اس کا سانس ہی بند کر دیتا ہے۔ غریب کا ایک بیٹا کوشش کر کے تھانے پہنچتا ہے۔ تھانے دار صاحب وڈیرے کو فون کرتے ہیں کہ فلاں غریب کا بچہ تمھارے خلاف شکایت لے کر آیا ہے! تھوڑی دیر بعد تھانے دار صاحب غریب کے بیٹے سے فرماتے ہیں: کل آئیے گا۔ غریب کا بیٹا گھر کی راہ لیتا ہے ، مگر گھر کبھی نہیں پہنچتا۔ غریب کے بقیہ بچے گاؤں چھوڑجاتے ہیں، کوئی انسانی حقوق والا انھیں ان کے زخموں کے مدواے کا کہتا ہے، بات میڈیا پر آتی ہے، شور مچتا ہے۔ وزیراعظم یا وزیر اعلی صاحب نوٹس لیتے ہیں یا چیف جسٹس از خود نوٹس لیتے ہیں۔ لاڈلے اور وڈیرے کے خلاف ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے، ان کو یقین دلایا جا تا ہے کہ ہر حال انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے ، ہم ظالم کے ساتھ اس طرح سے نمٹیں گئے کہ ایک مثال قائم ہو جاۓ گی۔ کیس عدالت میں پہنچ جاتا ہے پھر کئی سال بیت جاتے ہیں- بلآخر جج صاحب کے لیڈر اور ایس ایچ او کو حسب ذائقہ رشوت دی جاتی ہے اور انویسٹیگیشن کے بعد مجرم باعزت رہا کیا جاتا ہے تو اتنے تک غریب کے بچے جوان ہو جاتے ہیں- ان میں سے ایک کی غیرت جاگتی ہے تو وہ چھرا, پسٹل, یا بندوق اٹھاتا ہے اور گھر سے فرار ہو جاتا ہے پھر لوگوں کی زبان سے یہ الفاظ سنے جاتے ہیں کہ ” فلاں کے بیٹے نے چودھری سے اپنا بدلہ لے لیا” پھر وہ دہشت گردوں کی تنظیموں سے وابستہ ہو جاتا ہے اور حکومتی اداروں سے ٹکر لیتا ہے اور وہ مارا جاتا ہے یا معصوم جانوں کا لہو بہاتا ہے- صبح اخبار کی شہ سرخی ہوتی ہے کہ دہشت گردوں نے شہباز قلندر یا داتا صاحب کے مزار پر دھماکہ کر دیا اور اتنے شہید اور اتنے زخمی ہو گئے- اے پی ایس جیسا سانحہ ہوتا ہے, پولیس چوکی پر حملہ ہوتا ہے کچہری میں دھماکہ ہوتا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ ہمارے اتنے نوجوان شہید ہو گئے- دہشتگرد بہت ظالم ہوتے ہیں- دہشتگردوں نے ہمارے معاشرے کو یرمغال بنا لیا ہے-

بات اصل یہ ہے کہ ہم لوگ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر پا رہے جس کی وجہ ماوراے عدالت فیصلے ہوتے ہیں ہمارے وطن پاکستان میں معزز ججوں نے تین دن میں قتل کے کیس نمٹا کر ثابت کیا ہے کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق چل کر فوری انصاف فراہم کر سکتے ہیں افسوس ہم ایسا کرنا نہیں چاہتے- یہ سب ہماری نیتوں کا فتور ہے- سانحہ ساہیوال ہو تو ہمیں یہ یاد نہیں آتا کہ پولیس نے ماوراے عدالت قتل کیا لیکن ہمیں اسی وقت سب باتیں یاد آتی ہیں جب کوئی غازی بن کر نکلے- ہمیں خدا سے ڈرنا چاہیے کہ اگر دینا ہے ساتھ تو صرف حق اور سچ کا- خواہ کوئی مصلی, مراسی, پاولی یا کوئی اور سب برابر ہیں-

پاکستان زندہ آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں