ٹرمپ مڈل ایسٹ پلان

ٹرمپ مڈل ایسٹ پلان۔

ٹرمپ مڈل ایسٹ پلان، ساتھ چائنہ سی دونوں میں سے کسی ایک میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے ۔

مائک پومپیو کا دورہ مشرق وسطی مکمل ناکام ، ایکطرف اسرائیل ، امریکہ ، یو اے ای کو پیغام دے رہے ہیں کہ ترکی تمہارا سب سے بڑا دشمن ہے ، دوسری طرف ترکی کیساتھ بحیرہ روم میں ونسٹن چرچل نامی بحری جنگی جہاز بھیج کر فوجی مشقیں کی گئیں۔ ڈبل گیم ، ترکی کیساتھ معاملات ٹھیک رکھو ، ترکی نے حماس کے بڑے لیڈرز کو شہریت دے رکھی ہے ، ترکی کہیں ، اسرائیل پر کوئی بڑا حملہ نا کر دے ، عربوں کو اکسائے، ترکی کیخلاف تاکہ ، مسلمان آپس میں ہی لڑ مریں اسرائیل محفوظ رہے ۔

اسرائیل کو خطرہ تین اسلامی ممالک سے ہے ، ترکی ، ایران ، پاکستان ۔ ۔ ۔
سب سے زیادہ خطرہ پاکستان سے ہے ، ایٹمی پاور ، بہترین فوج ، جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی جو اسرائیل کو ہٹ کر سکتی ہے ، بہترین نیوی ، ایئر فورس ۔ ۔ ۔ جہاد کا تصور ۔

اگر چند عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیتے ہیں تو امت مسلمہ کی قیادت خود بخود پاکستان کے پاس آ جائے گی ۔ جس سے پاکستان مضبوط ہو جائے گا ، سعودیہ فارغ ۔ جبکہ سعودیہ ، اسرائیل کو تسلیم کرنے کیساتھ ساتھ مسلم امہ کی قیادت بھی اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے ۔

اسوقت پاکستان پر شدید ترین دبا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لے ، اگر پاکستان ، اسرائیل کو تسلیم کر لیتا ہے تو زائیونسٹ کا سب سے بڑا دشمن ختم ۔ ۔ ۔ پوری دنیا میں ہر مسلم ملک اسرائیل کو تسلیم کر لے گا ۔

وہی کل کے آرٹیکل والی بات اسرائیل تنہا تنہا کر کے تو ہر اسلامی ممالک سے لڑ سکتا ہے مگر ، اگر امت مسلمہ اکٹھی ہو گئی تو نا ممکن ہوگا لڑنا ۔ ۔ ۔
خود کو تسلیم کروانے کے پیچھے یہی مقصد کار فرما ہے کہ ، پہلے سب سے خود کو تسلیم کروا لو ، پھر تنہا کر کر کے مارو ۔
پاکستانیوں کے مذہبی جذبات ہیں ، اسرائیل کے حوالے سے جو غیر مسلم نہیں سمجھ سکتے ۔ موجودہ حالات میں عمران خان کا یہ بیان میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرونگا ، اللہ کو کیا منہ دکھاونگا ، عمران اور اسٹیبلشمنٹ پر بین الاقوامی دبا بڑھا گیا ، اپوزیشن اکٹھی ہو گئی ، کیونکہ یہ ٹرائیکا کے غلام ، اپنے ملک کے غدار ہیں ۔ ۔ ۔ سارے سعودی فنڈ خور علما سو عمران ، اسٹیبلشمنٹ کیخلاف متحد ، مذہبی کارڈ ، نئے نئے پروپیگنڈے استعمال کئے جا سکتے ہیں ۔
لیبیا ، شام ، عراق کی لیڈر شپ نے بھی یہی بات کی تھی ، جو آج عمران نے کی ہے ، ان ممالک انکی لیڈر شپ کا آج انجام دیکھ لیں ۔ ۔ ۔
جنرل عاصم سلیم باجوہ کے پیچھے بھی ٹرائیکا کے کہنے پر یہی غداران وطن ، جیو ، جنگ ، ڈان کے صحافیوں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈہ کروا رہے ہیں ، یہ بھارتی نمائندے ہیں جو پاکستان کا گلہ دبا رہے ہیں ، جنرل عاصم سلیم باجوہ پر جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا مطلب سی پیک کو نقصان پہنچانا ہے ، چین تو سارا پروپیگنڈہ جانتا ہے ، مگر سی پیک میں اب دیگر ممالک بھی شامل ہونا چاہتے ہیں ، اتنے بڑے الزام عائد کرنے کے بعد کیا کوئی ملک سی پیک میں انویسٹمنٹ کرے گا ؟
سی پیک سے ٹرائیکا ، لوکل غداران کو بہت تکلیف ہے ، یہ جھوٹا پروپیگنڈہ اندرونی غداروں کیجانب سے پاکستان کے سنہرے مستقبل کو دا پر لگانے کے مترادف ہے ، اگر یہیں پر غداران کیخلاف مکمل کارروائی نہیں ہوتی ، انکو نشان عبرت نہیں بنایا جاتا تو یہ پروپیگنڈہ مزید بڑھے گا ، وہی میری بات جبتک اندرونی غداروں کا صفایا نہیں کیا جاتا ، جو مرضی کرلو ، پاکستان ترقی نہیں کر سکتا ، یہ ٹانگیں کھینچتے رہیں گے ۔ ۔ ۔
انکو سزا کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں ، پورا کھیت بچانے کیلئے دو چار کووں کو لٹکانے میں کیا مسلہ ہے ؟ ان خبیث ، غداران وطن و عوام ، کرپٹ عناصر کو سزا دلوانا اب تک اداروں کیلئے چیلنج کی حیثیت اختیار کر جانا چاہئے تھا ، مزید ڈھیل کا مطلب ہر نازک صورتحال میں یہ پاکستان کو موقع ملتے ہی ڈسیں گے ۔ ۔ ۔
اپنے اصل ٹاپک کیطرف آتے ہیں ، اسرائیل کو اردن ، مصر ، موریطانیہ تسلیم کر چکے ہیں ، عمان ، مراکش ، کویت ، ترکی کیمپ میں جا رہے ہیں ، قطر پہلے سے ہی ترکی کیساتھ ہے ۔ ۔ ۔ مسقط ، بحرین ، الجزائر بھی تسلیم نہیں کریں گے ، اسرائیل کو ۔ ۔ ۔ عراق ، شام ، لیبیا بہت بری حالت میں ہیں ۔ ۔ ۔
یو اے ای ، ایف 35 جہاز کے حصول کیلئے اسرائیل کو تسلیم کر رہا تھا ، روس کے بعد ، جرمنی کی ڈیفنس کمپنی ھینس ھولڈ نے انکشاف کیا ہے کہ ہمارے جدید ریڈار ٹوئنوس نے ایف 35 کو 150 میل سے ڈیٹیکٹ کر لیا تھا ، روسی ایس 400 کی موجودگی میں ایف 35 جہاز کو استعمال نہیں کیا جا سکتا ، ایس 400 ، ایف 35 کے مقابلے کیلئے ہی بنایا گیا تھا ۔ ۔ ۔ اسی لئے ترکی کو امریکہ ایس 400 کی خریداری سے منع کر رہا ہے ، کہیں خطے میں طاقت کا توازن ترکی کے حق میں نا چلا جائے ۔ ۔ ۔
بہرحال ٹرمپ کو الیکشن میں جیت کیلئے ، مڈل ایسٹ پلان ، یا ، ساتھ چائنہ سی دونوں میں سے کسی ایک میں کامیابی حاصل کرنی ہے ۔ فی الحال تو دونوں محازوں پر شکست ہی شکست نظر آ رہی ہے ۔

تحریر :
حافظ اویس ستار

اپنا تبصرہ بھیجیں