ماں دھرتی کی محبت کی اصلیت اور منافقت

ماں دھرتی کی محبت کی اصلیت اور منافقت

جاوید علی

تاریخ کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ انسان اور زمین کا رشتہ سب سے کمزور رشتہ ہے لیکن انسان اسے ماں دھرتی یا مدر لینڈ کہتا ہے- جب یہ زمین پھل پھل اگانا چھوڑ دے, چشمے سوکھ جائیں, اپنے سینہ سے رزق کے دروازے بند کر دے تو اس کا بیٹا اسے چھوڑ کر دوسری نئی سرسبز و شاداب ماتا پر قبضہ کرنے کے لیۓ نکل پڑتا ہے- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک یہ زمین زرخیز ہوتی ہے اپنا سینہ چیر کر اپنے بیٹوں کو پالتی ہے, ان کو تازہ پانی پلاتی ہے, ان کا اچھے برے حال میں ساتھ دیتی ہے, مر جانے پر انہیں اپنے اندر جگہ عطا کرتی ہے ان کو پردہ دیتی ہے جوں ہی یہ جنگ, قحط سالی اور کسی بیماری کا شکار ہوتی ہے تو اس کا بیٹا اپنا بوری بسترہ گول کرتا ہے اور چلتا بنتا ہے اور نئی زمین پر جا کر ڈیرے ڈال لیتا ہے- چرند پرند بھی انسان کی طرح ہی بےوفا ہوتے ہیں جب چشمے سوکھ جاتے ہیں گھاس یا شکار نہیں ملتا تو وہ بھی اس سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوۓ نئی زمین نئے جنگل میں چلے جاتے ہیں- پرندے تو موسم گرم یا سرد ہونے کی وجہ سے بھی اس سے کچھ عرصہ کےلئے تعلق منسوخ کر لیتے ہیں- جب تک یہ زمین زرخیز رہتی ہے اسکا بیٹا اس کے انچ انچ کی حفاظت کے لئے لاکھوں جانوں کا نزرانہ پیش کرتا ہے- اس کی حفاظت کے لئے لاکھوں نوجوانوں پر مشتمل فوجیں پالتا ہے تاکہ کوئی ناپاک اس کی ماں دھرتی کو اپنے دامن سے ناپاک نہ کر جاۓ اور ناپاک کرنے والا بھی وہ جو اس پر موجود وسائل کا حصہ دار نہ بننا چاہتا ہے- وہ کسی کو اپنے پانی سے نہیں گزرنے دیتا اور نہ ہی خلاء میں سے اجازت کے بغیر کسی کو گزرنے دیتا ہے- اس کے لئے ترانے لکھتا تھکتا نہیں اور اس پر مر مٹنے والوں کو تمغوں سے نوازتا ہے-

اس سے بڑی اور کیا منافقت ہو سکتی ہے کہ انسان ماں دھرتی کو اپنے چند ٹکے بچانے یا کمانے کےلئے خدا حافظ کہتا ہے اور پھر دوسری مدر لینڈ پر ہمیشہ کے لئے رہنے اور اس کے وسائل سے مستفید ہونے کےلئے پہلی ماں دھرتی سے لاتعلقی کا تحریری اعلان کرتا ہے جسے ہم عرف عام میں شہریت حاصل کرنا کہتے ہیں- انسان جب سے اس کرہ ارض پر آباد ہوا ہے وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کو وسائل کی خاطر اپناتا رہتا ہے آج سے ساٹھ ہزار سال قبل جب افریکہ کی سرزمین نے اپنا دروازے انسانوں کےلئے بند کرنے لگی تو بیٹا اپنی ماں دھرتی کو اجڑتے دیکھ کر ایشیاء اور یورپ کے سرشاداب علاقوں کا رخ کر لیا اور یہاں پر آ پہلی مدر لینڈ کو بھول گیا- اسی طرح آج بھی ہوتا ہے جب مدر لینڈ کے ادارے اس بیٹے پر ذرا ہاتھ ڈالتے ہیں تو بیٹا دوسری مدر لینڈ کی گلیوں میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے بیشک وہ پہلی ماں دھرتی کا سربراہ ہو یا اس کے افواج کا سپہ سلار یا پھر منصف سبھی اس سے منافقت کرتے ہیں- آج ظلم وستم, قتل و غارت, استحصال اور جنگ کی بنیادی وجہ بھی یہی ماں دھرتی ہوتی ہے داعش وغیرہ جیسی تنظیمیں بھی اسی کےلئے اپنے آپ کو پیش کر رہی ہیں- ایک اندازے کے مطابق سو میں سے ننانوے قتل اسی وجہ سے ہوۓ ہیں- اقبال نے اسی لئے تو کہا تھا کہ

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اسکا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

انسان اس منافقت میں اس قدر آگے نکل جاتا ہے کہ مذہب کو بھی اس کی محبت کے بیچ میں لا کر کھڑا کرتا ہے اور من گھڑت باتیں بنا لیتا ہے- اسلام جس میں ہجرت کو فضیلت حاصل ہے اللہ کے ہاں مہاجرین کو اعلی مقام ہے اس مذہب کے پیروکاروں نے اسکا دامن میلا کرنے کی کوشش کی ہے “وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے” جیسی من گھڑت باتیں لے آۓ- احادیث کے جانچ پڑتال کرنے والوں نے اس بات کی نفی کی ہے اور انہیں من گھڑت قرار دیا ہے امام سخاوی, علامہ سیوطی, ملا علی القاوی, احمد رضا بریلوی اور حسن البانی وغیرہ بہت سارے محدثین نے اسے من گھڑت قرار دیا ہے- لوگ اس قدر گر جاتے ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذات پر جھوٹ باندھ کر انہی قوم پرستوں نے اپنے لۓ جہنم کا سودہ کرلیا- اسی وجہ سے مقامی اور غیر مقامی کی تفریق شروع ہوتی ہے اور قتل وغارت, ظلم و ستم اور جنگ کی اساس ماتا ہیں- اس دنیا اقوام میں ہم واحد قوم ہیں جنہوں نے مذہب کی خاطر اپنے ہندو یا غیر مسلم بھائی کا انکار کیا تھا سب بنگالی,پنجابی, بلوچی, سندھی اور پٹھان ہونے کا انکار کیا تھا اور کہا ہم سب کلمہ توحید پر ایمان لانے والے بھائی بھائی ہیں آج اسی ماں دھرتی پر بسنے والے چند قوم پرست کبھی کسی مسلمان ہیرو کا انکار کرتے ہیں کبھی کسی کا- اصل میں پاک و ہند میں رہنے والے یہاں کے اصل باسیوں کے قاتل یا انہیں بھگانے والے ہیں خدانخواستہ آج دریا اپنا پانی ختم کردیں تو تاریخ ایک اور ہجرت دیکھے-

اپنا تبصرہ بھیجیں