آزمائش

آزمائش

سمعیہ نور

تیری زندگی تا موت تک
نہ پوچھ کہاں آزمائش ہے

اس لا نے ہے جسے لا کہا
وہ نہ کر یہاں آزمائش ہے

بنا سوچ کے چلے جو زباں
ذرا رک یہاں آزمائش ہے

اک آہ پہ ہیں کیوں سو گلے
کر چپ یہاں آزمائش ہے

یہ شیطاں کھلا ہے دشمن تیرا
اسے کر دفعہ آزمائش ہے

جو غرور سے ہے تیرا سر اٹھا
اب جھک یہاں آزمائش ہے

یہ جو رونقیں ہیں ساری رنگتیں
سب ہیں فنا آزمائش ہے

وہ تو ہے فقط آزما رہا
کر صبر جہیاں آزمائش ہے

خوشبو بھی مانگے ہے جوۂ صبر
ہر پل جہاں آزمائش ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں