غربت کی آپ بیتی

غربت کی آپ بیت

سمعیہ نور

میں موت کا پیغام بھی ہوں
تڑپتی صبح شام بھی ہوں
میں آہیں ہوں مزدوروں کی
بن لقمے میں طعام بھی ہوں

محتاج ہوں پائی پائی کی
چند پیسوں کی کمائی کی
مقروض ہوئی ہوں لاکھوں کی
نہ آنے کی نہ اڑھائی کی

میں ہوں تو جنگ وجدل بھی ہے
ہو مشکل زندگی کا سفر بھی ہے
مجھ سے ہی بھوک افلاس ہے
میں ہوں تو صف جبر بھی ہے

فقراء کا خاص اعجاز ہوں میں
اک درد کی لکھی کتاب ہوں میں
میرا آنا ایک ستم بھی ہے
ظالم کا بچھایا جال ہوں میں

ہوں میں جہاں پر صبر بھی ہے
اک آزمائش جو پر خطر بھی ہے
مجھے لائی ہے رضائے الہ
جو دیتا صبر کا اجر بھی ہے

یوں تعریف ہےکی چند لوگوں نے
کچھ زخمی جگر کے سوزوں نے
خوشبو نے کہا آفت اس کو
ذلت ہے لکھا قلمی نوکوں نے

اپنا تبصرہ بھیجیں