واہ کرونا واہ

واہ کرونا واہ

سمعیہ نور

کرونا نہ تھی جب جہاں میں بیماری
تعیش میں ڈوبی تھی مخلوق ساری

کہ حد تھی کفر کی اور شرک خدا کی
توہین توحید و۔ ذات الہ کی

بشر اک تھا بولا آنا میں یوں آ کر بنایا ہے اب میں نے انسان مکمل

تجربات ہو جائیں کچھ اور بس پھر
ہاتھوں میں ہوگی حیا و اجل پھر

غضب الٰہی کو دعوت دی اس نے
چاہی جو کرنی شرکت تھی اس نے

وباء کرونا پرزمیں پر یوں چھائی
بتا اب بشر کیا تھی کھڑی دوہائی

غرور و تکبر ہوا پھر رواں
جب لقمۂ اجل یہ بنا انساں

دعائیں بھی خاطر میں لائی گئیں
جو حضور خدا پھر منوائی گئیں

بنا نہ سکے جب وباء کی دوائی
تب سنت نبوی ہی تھی کام آئی

چھٹا پھر یہ موسم خزاں و طوفاں کا
خلق نے کیا پھر پاس اپنے ایمان ک

اپنائی جو پھر سے تعلیم قرآں
اسی سے ہی سنبھلی یہ امت مسلمہ

شطرالایماں ہے پھر حرمت یوں پائی
تھی نفاست جہاں پر ہوئی پھر صفائی

اور کرتی ہے خوشبو صد شکر خدا
سنت ملی یوں کرونا گیا کرونا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں