عورت ہوں میں

عورت ہوں میں

سمیعہ نور

کہیں آمنہ ہوں کہیں فاطمہ
کہیں ہوں زلیخا کہیں حاجرہ

کہیں ہوں عظیم کہیں ہوں ذلیل
کہیں صابرہ تو کہیں ہوں جمیل

کہیں جایا مجھے اک غریب نے
کہیں قبر لکھ دی نصیب نے

کہیں سر پے بابا کا ہاتھ ہے
کہیں شوہر کا بھی نہ ساتھ ہے

کہیں تابش محل ہے میرے تئیں
کہیں کسی اکڑو کی نوکر بنی

کہیں تخت میرے لیے آ بچھے
کہیں میری خاطر چلے قافلے

کہیں رنجشوں سے میں ٹکرا گئی
کہیں زیریں تشدد میں میں آ گئی

کہیں مغربی تو ہوں لعنتی
کہیں مشرقی تو ہوں مذہبی

کہیں بن چکی ہوں میں دختر مثالی
کہیں ہو چکا ہے یہ دامن ہامالی

کہیں حسن کا قندیل ہوں میں
کہیں رانجھے کی ہیر ہوں میں

کہیں مجھ سے نسلیں بڑھی اور پلی
کہیں میری عادت سے قومیں گریں

کہیں درد ہوں کہیں فرض ہوں
کہیں سازشوں کی میں غرض ہوں

ہے چند ایک شعروں میں میری پہچان

میں ہوں محنتی میرا عورت ہے نام

اپنا تبصرہ بھیجیں