قسمت کیا مقدر کیا (ایماندار فراڈیا)

قسمت کیا مقدر کیا (ایماندار فراڈیا)

سمیعہ نور

مقدر کے معنی حکم دینا لغوی معنی تقدیر کے ہیں۔
ضد بد بختی۔
جبکہ اصطلاحی اعتبار سے تقدیر وہ حکم ہے جو لکھا جا چکا ہے اور پورا ہو کر رہے گا۔
ان کے ہم جھولی الفاظ ہیں نصیب اور بخت ۔ ادبی اعتبار سے میں ہٹ کر اپنا موقف پیش کر رہی ہوں۔
تقدیر کا انکاری کافر ہےوہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔توحید پر یقین نہیں رکھتا۔

ویسے تو لکھنے والے کمال لکھتے ہیں۔ ہر لحاظ سے وہ حسین گفتگو کرنے کا کمال رکھتے ہیں ۔ ہم بھی زیر بحث ہیں مقدر کیا ہے ۔ تو کہنے لگے جسے ہم لوگوں کی چال لکھتے ہیں ۔
مقدر اور قسمت دونوں میں گہرا تعلق ہے۔اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو مقدر اعلیٰ ہے قسمت سے قسمت خود بدلی جا سکتی ہے مگر مقدر نہیں۔
مقدر وہ جو آپ کو بن مانگے مل گیا قسمت وہ جو آپ محنت کے بل پر حاصل کریں ۔
مقدر لکھا جا چکا ہے اور قسمت بدلنا آپ کا کمال ہے۔
مگر دونوں بدلتے تب ہیں جب اللہ عزوجل کا حکم ہو۔قسمت بدلتے پر آئے تو زندگی سنور جاتی ہے۔اسی طرح ایک واقعی بڑا مشہور ہے ۔جو کہ اویس گھمن نے پنجابی میں بیان کیا اور اسے ایماندار فراڈیے کا نام دیا۔
کہانی بیان کرنے سے پہلے عرض کریں چلوں۔ تقدیر پر ایمان لانا لازمی ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے بندہ اس وقت تک مون نہیں ہوسکتا جب تک ان چار باتوں پر ایمان نہ لائے!
1ـ وہ گواہی دے کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
2ـمیں (مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم)رسول ہوں اور
3ـمرنے کے بعد اٹھائے جانے اور
4ـ تقدیر پر ایمان رکھتا ہو۔
معزز ریڈرز!
میری مختصر سی تحریر میں ایک واضح ثبوت ہے کہ تقدیر ہی ایمان ہے۔
( ایک کھوٹا سکہ تھا۔)
یہ ایک گاؤں کے ایک غریب
مگر محنتی مزدور کا واقعہ ہے ۔ بزرگ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جو کہ وان دھویا کرتا تھا۔ اس کی روز کی کمائی تقریبا ایک چوانی تھی۔
وہ بڑی لگن سے کام کرتا اور شام کو مزدوری لینے کے بعد خوشی خوشی گھر لوٹ جاتا۔
ایک دفعہ اسے بادشاہ کے دربار میں حاضری کا موقع ملا اور در بار میں خصوصی بادشاہ کے حکم پر بلوایا گیا۔
جب اعوان میں پہنچا تو بادشاہ اپنے وزیر سمیت وہاں موجود تھا۔حکم کیا کہ اسے سو روپے کا نوٹ دے دیا جائے۔
اب وزیر حیران ایک تو نہ جان نہ پہچان اور دوسرا سو روپے اسے دوں بغیر کسی محنت کے ۔حکم تھا تعمیل ضروری تھی۔ سو کا نوٹ حاضر خدمت پیش کیا گیا۔
بادشاہ نے حکم دیا کہ سو روپے کا نوٹ اس لو اور جو تم کام کرتے ہو اسے چھوڑ دو۔وزیر سے کہا آدمی خاندانی ہے عزت سے پیش آنا۔
مزدور نے بنا سوچے سمجھے کہا ٹھیک ہے۔ بادشاہ متمن ہو گیا اور اسے جانے دیا۔
دربار سے واپسی پر وہ سوچنے لگا میں اس سو کا کیا کروں ؟ پھر اسے خیال آیا کہ گھر بیگم کو نہیں بتاؤں گا اور اپنی روز کی کمائی بھی ہاتھ سے نہیں جانے دونگا۔آج پھر مزدوری کر ہی لیتا ہوں۔اس نے اس نوٹ کو سر پگڑی کی کسی تہہ میں چھپا دیا اور کام کو نکل گیا۔
اگلے روز قصہ کچھ یوں ہوا کہ کسی نے اس کو ترس کھا کے کچھ گوشت دیا اسنے وہ بھی پگڑی میں لپیٹ لیا۔
اب بیچارا وہاں سے چند قدم ہی آگے بڑھا ہوگا۔کہ اوپر سے چیک آئی اور پگڑی اور گوشت سمیت سو کا نوٹ بھی لے اڑی۔
خیر وہ اپنی قسمت پر متفق تھا۔ اس نے کہا کہ ایک چوانی تو کہیں نہیں گئی میں اسی پر راضی ہوں۔

خیر اس نے بیوی سے کسی کا ذکر نہیں کیا۔کچھ دنوں بعد پھر حاضر خدمت کا بلاوا آیا۔اس نے جانے بہتر سمجھا اور نکل پڑا۔
دربار میں پوچھا گیا کہ پہلے والا سو کہاں ہے؟ کیا تم نے مزدوری کرنا چھوڑ دی ؟
اس نے سچ سچ بتا دیا۔ بادشاہ نے کہا یہ جھوٹ نہیں بول رہا اسے ایک اور نوٹ دے دو۔
اب وزیر اندر ہی اندر حسد کی آگ میں جل رہا تھا من اس کا بھی نہ تھا دینے کو۔لیکن حکم تھا ماننا تو پڑے گا ہی۔ آخر ڈرتا کیا نہ کرتا اس نے سو کا ایک اور نوٹ اسے دے دیا۔
اب اس نے سمجھداری سے کام لیا اور سو کا نوٹ جیب میں ڈال لیا (بھولا بھالا ہو گا کوئی)۔
اب وہ گھر پہنچا اس نے اس متعلق بیوی سے عرض نہ کیا۔
اس نے کافی تحقیق اور سوچو وچار کے بعد سو کا نوٹ ایک ایسی بکٹ کے ایک خوفیا میں رکھ دیا جس میں روکھی سوکھی روٹیوں جمع کی جاتی تھیں ۔

کچھ دنوں بعد بیوی کو اس کی غیر حاضری میں پیسوں کی ضرورت پیش آئی اس نے اسے اسے بیچ کر پیسے لے لے لیئے۔
اب میاں نے مزدوری کرنے کے بعد شام کو آکر ڈبہ نہ پایا تو بڑا چلایا۔
مگر بیوی سے اس کا ذکر تب بھی نہ کیا۔خیر پھر حاضر خدمت کا شف حاصل ہوا۔اب بادشاہ اس سے خفہ ہو گیا یا تو یہ جھوٹ بول رہا ہے یا اس کیساتھ کوئی دھوکہ ہوا ہے ۔ اب وزیر کے پاس بھی ایک کھوٹا سکہ ہی بچا تھا۔ اس نے خاموشی سے وہ لے لیا

اپنا تبصرہ بھیجیں