انگریزی بولنا اور انگریزی کپڑے پہننا سافٹ امیج نہیں احساس کمتری ہے، وزیراعظم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سافٹ امیج کوئی چیز نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جب پاکستانیوں کو انتہاپسند اور بنیاد پرست کہا گیا تو ہمارے اندر یہ دفاعی سوچ پیدا ہوئی کہ ہم پاکستان کا سافٹ امیج پروموٹ کریں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم امریکا کے لیے جنگ لڑ رہے تھے اور وہ ہمیں برا بھلا بھی کہہ رہے تھے، حالانکہ ہمیں ان کی اس جنگ میں حصہ لینے کی کوئی ضرورت نہ تھی، اس وقت پاکستان کے لیے یہ کہاگیا کہ یہ بہت خطرناک جگہ ہے، یہاں بنیاد پرست اور انتہا پسند موجود ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے سمجھا کہ اگر وہ انگریزی کپڑے پہنیں اور انگریزی بولیں تو یہ پاکستان کا سافٹ امیج ہوگا، مجھے اس دور میں طالبان خان کہا گیا ، سافٹ امیج خودداری سے آتا ہے ،دنیا اس کی عزت کرتی ہے جو پہلے اپنی عزت کرتا ہے ،سافٹ امیج کو پروموٹ کرنا ہےتوپاکستانیت کوپروموٹ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بھارتی فلم انڈسٹری کو کاپی کرنا شروع کردیا، دنیا میں صرف اصل چیز بکتی ہے، کاپی نہیں، دنیا میں آئیڈیاز کو پذیرائی ملتی ہے، ہم نے فلمیں بنانے میں اپنی سوچ کے بجائے دوسروں کا کلچر اپنا لیا،ہمارے ٹی وی نے بہترین کام کیا جو بھارت میں دیکھا جاتا ہے،اپنی سوچ لے کر آئیں اور ناکامی سے نہ گھبرائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں