علم کا اجالا

علم کا اجالا

تحریر وترتیب: محمد بلال انجم کمبوہ

مرکزی کردار
رشید۔۔۔۔۔ایک گاؤں کا ان پڑھ کسان
بشیر۔۔۔۔۔رشید کا دوست جو تھوڑا پڑھا لکھا ہے اور گاؤں میں رہتا ہے اور دفتری کاموں کو جانتا ہے
احمد۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہوتا ہے
اسلم۔۔۔۔۔۔ایک گورنمنٹ کا ملازم پٹواری
ظفر اقبال۔۔۔۔۔۔ اسسٹنٹ کمشنر

آغاز میں ہوتا یوں ہے کہ رشید کسی سے زمین خریدتا ہے اور وہ اپنے دوست بشیر کے پاس جاتا اور کہتا ہے کہ وہ اس کا کام کروا دے۔۔۔۔۔

رشید:- میاں بشیر کیا حال ہیں اور کدھر مصروف ہوتے ہو؟

بشیر۔۔ الحمدللہ رب کا کرم ہے اور دفتروں کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔
رشید:- یار بات یہ ہے کہ میں نے کچھ زمین خریدی ہے اور اسے اپنے نام کروانا چاہتا ہوں تم دفتروں کے معاملات جانتے ہو میں تو ان پڑھ جاہل ہوں۔

بشیر:- اچھا بھائی کل تم تیار ہو کر آجانا ہم شہر چلے جائیں گے اور تمام معلومات لے کر آئیں گے اور بعد میں تمہارا کام کروا دوں گا۔
(بشیر سرکاری لوگوں سے ملا ہوتا ہے اور پیسے لے کر سب کے کام کرواتا ہے اور وہ رشید کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے)

بشیر:- اسلم بھائی (پٹواری) کیا حال ہیں اور یہ میرا دوست رشید ہے اس نے زمین نام کروانی ہے سرکاری فیس کے ساتھ جو بھی غیر سرکاری فیس ہے وہ بھی بتا دیں۔
اسلم:- الحمدللہ۔
زمین کی منتقلی کے لئے پچاس ہزار اور باقی پچاس ہزار غیر سرکاری فیس ہے۔ وہ بشیر کو علیحدہ کر کے بتاتا ہے کہ جس میں دس ہزار آپ کا ہے اور وہ بہت خوش ہوتا ہے۔
بشیر:- اسلم بھائی آپ کا بہت شکریہ جو آپ نے مناسب ہدیہ لیا ہے باقی ہماری طرف سے فائنل سمجھیں اور وہ رشید کو آکر بتاتا ہے۔
رشید:- بشیر بھائی مجھے کچھ پتہ نہیں جو سہی لگتا ہے وہ کر دیں۔
(وہ شام کو گھر پہنچتے ہیں اور رشید اپنے گھر چلا جاتا ہے اور اسے احمد ملنے آتا ہے)
احمد:- بھائی رشید کیا حال ہیں اور آج کل کیا چل رہا ہے؟
رشید:- الحمدللہ بھائی جان۔۔۔۔۔ یار کچھ زمین خریدی ہے اور وہ کل منتقل کروانی ہے۔
احمد:- بھائی سرکاری فیس کے علاوہ کوئی پیسے تو نہیں دیے؟

رشید:- آپ کو تو پتہ ہے میں ان پڑھ ہوں بشیر کو ساتھ لے کر گیا تھا پچاس ہزار فیس کے ساتھ پچاس ہزار غیر سرکاری فیس دینی ہے۔
احمد:- بھائی آج کل کوئی رشوت نہیں لیتا اور بشیر تو سب کچھ جانتا ہے، بھائی آج کل بہت سختی ہے۔
رشید:- مجھے تو اس نے جو کہا میں نے تو اس کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔
احمد:- میں کل تمہیں لے کر جاؤں گا اور تمہارا کام سرکاری فیس کے ساتھ کروا دوں گا۔
رشید:- احمد بھائی آپ کی مہربانی ہوگی میں تو کچھ نہیں جانتا.
(احمد اور رشید اگلے دن شہر جاتے ہیں اور احمد اس کا کام کرواتا ہے)
(احمد اسسٹنٹ کمشنر ظفر اقبال کے پاس جاتا ہے اور کام کرواتا ہے)
احمد:- ظفر اقبال صاحب یہ میرا دوست ہے اس نے زمین نام کروانی ہے اور سرکاری طور پر زمین نام کر دیں اور جو فیس ہے یہ ادا کر دیتا ہے۔
ظفر اقبال:- جناب میں ان کا مسئلہ ابھی حل کروا دیتا ہوں۔

(ظفر اقبال اپنے سیکرٹری کو بلاتا ہے اور اس کو کہتا ہے سرکاری طور پر اس کا مسئلہ حل کرو)
احمد؛- رشید میاں مبارک ہو آپ کا کام ہو گیا اور ہمارے سب ادارے سرکاری فیس پر کام کرتے ہیں معاشرے کے چند لوگوں کی وجہ سے ادارے خراب ہو رہےہیں۔
رشید:- احمد بھائی یہ سارا کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا۔
احمد؛- بھائی یہ تو میرا فرض تھا جو میں نے پورا کر دیا۔

رشید:- احمد بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ۔
( جب یہ بات بشیر کو پتہ چلتی ہے تو وہ رشید کے پاس آتا ہے)
بشیر:- رشید یار مجھے پتہ چلتا ہے کہ احمد نے تیرا کام کروا دیا ہے اور میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں۔
رشید:- یار کوئی بات نہیں تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا یہی کافی ہے اور بات یہ ہے کہ معاشرے کا ہر شخص برا نہیں ہوتا….

معاشرے میں چند لوگ غلط ہوتے ہیں پورا معاشرہ کبھی بھی غلط نہیں ہوتا اور ہمیں ہمیشہ اچھے لوگوں کو دیکھ کر ان کی اچھائی بیان کرنی چاہیے نا کہ برے لوگوں کی خامیاں بیان کرتے زندگی گزار دیں۔