جہاد و فساد اور صحافتی ذمہ داریاں

جہاد و فساد اور صحافتی ذمہ داریاں

ازقلم غنی محمود قصوری

لفظ جہاد کے مفہوم و معنی کوشش کے ہیں
اللہ تعالی ہم سے کوشش مانگتا ہے نتجہ نہیں اکثر گمان کیا جاتا ہے کہ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا ہی نام ہے جبکہ ایسا ہر گز نہیں
دیکھتے ہیں جہاد کی اقسام آقا علیہ السلام کی حدیث کی رو سے

عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ جَاہِدُوْا الْمُشْرِکِیْنَ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،مشرکوں سے جہاد کرو،اپنے مالوں کے ساتھ،اپنی جانوں کے ساتھ اور اپنی زبانوں کے ساتھ

اس حدیث مبارکہ سے ہمیں جہاد کی تین اقسام کا پتہ چلتا ہے اپنے مالوں سے یعنی کسی بھی مجاھد کو تیار کرکے ،اپنی جانوں سے یعنی میدان جہاد میں خود جا کر اور اپنی زبانوں سے یعنی تبلیغ کرکے کسی کو جہاد پر ابھارنا،قلم سے لکھنا وغیرہ بھی جہاد کی اقسام ہیں

فی زمانہ جہاں جہاد بالنفس یعنی اپنی جان کے ساتھ جہاد کی ضرورت ہے وہیں ہمیں جہاد بالزبان کی خاص ضرورت ہے چونکہ ڈیجیٹل دور ہے اس لئے کافر ہم پر ڈیجیٹل وار کے طور پر سائیبر وار فئیر کر رہے ہیں
اور اپنوں کو ہی اپنوں کے خلاف کیا جا رہا ہے جس کی کئی مثالیں اپنے مسلمان پاکستانیوں کا کفر و ارتداد کے فتوے لگا کر اپنے ہی ملک کے مسلمان عام و خاص افراد کو قتل کرنا ہے

دشمن کی اس پراکسی وار کا مقابلہ کرنا ہم سب پر فرض ہے کیونکہ اگر ہم انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں تو جہاں خود کفار کے پراپیگنڈے کا شکار ہم خود ہو سکتے ہیں وہیں ہمارے دیگر مسلمان بھائی بہن بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں اس لئے ہمیں ہر شعبہ زندگی میں رہتے ہوئے جہاد کرنا ہو گا تاکہ ہماری نسلیں کفار کے پروپیکینڈے سے بچ کر صحیح مسلمانوں والی زندگی گزار سکیں خاص طور پر صحافی حضرات کو دشمن کے پراپیگینڈے کو دنیا تک پہچانا لازم ہے کیونکہ صحافت وہ پیشہ ہے جو مملکت کے عام افراد سے لے کر خاص الخاص تک ہر ایک کی خبر رکھتا ہے اور ان کا نمائندہ ہوتا ہے
اور سب کے ساتھ یکساں رہتا ہے
ایک صحافی کا قلم مظلوم کی آواز بنے تو جہاد کی تیسری اقسام میں شمار ہو گا بلکل اسی طرح جیسے دیگر ملکی مسائل کو اجاگر کرنا صحافی حضرات پر فرض ہیں اسی طرح دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بننا بھی صحافیوں پر فرض ہے اور ان مظلومین کی آواز بننا جہاد کی تیسری قسم میں شمار ہو گا اور دنیا تک مظلوم کی آواز پہنچے گی اور اللہ رب العزت کی خوشنودی کے ساتھ مظلوموں کی دعا بھی ملے گی ان شاءاللہ

اسی طرح ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا​ بھی بہت بڑا جہاد ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

(( أَحُبُّ الْجِھَادِ إِلَی اللّٰہِ کَلِمَۃُ حَقٍّ تُقَالُ لِاِمَامٍ جَائِزٍ۔ ))
صحیح الجامع، رقم: ۱۶۶۔

ترجمہ۔۔اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ جہاد ظالم بادشاہ کو حق بات کہنا ہے
اس حدیث کی تشریح کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کلمہ حق سے مراد ظالم بادشاہ کو کسی نیکی کا حکم یا کسی برائی سے روکنا ہے یہ کام خواہ الفاظ سے کا جائے یا لکھ کر یا اس کے علاوہ کسی اور طریقہ سے کیا جائے
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے پسندیدہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں جہاد کرنے والا خوف بھی رکھتا ہے اور امید بھی
اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ غالب آئے گا یا مغلوب ہوگا مگر ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کی وجہ سے اس نے اپنے آپ کو یقینی ہلاکت میں داخل لیا ہے چونکہ ظالم حکمرانوں کا دور ہے اس لئے اس کیلئے مشکلات بہت بڑھ جاتی ہیں
اور زیادہ تر ایسے افراد کو راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے
لہٰذا جہاد کی اس قسم میں خوف کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے اس کو افضل قرار دیا گیا
عون المعبود شرح ابوداؤد ص ۳۳۵، ۱۱۱
مگر واضع رہے کسی بھی سیاسی جماعت سے ذاتی عناد رکھنا اور پھر شور و غوغا کرنا قطعاً جہاد نہیں بلکہ یہ فساد شمار ہو گا جہاد وہی ہو گا جو کسی بھی مسلکی،سیاسی جماعت اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر حق بات کی جائے چاہے کسی اپنے کو ہی خسارہ کیوں نا ہو
اب جہاد کی طرح فساد پر بھی قرآن کی ایک آیت پیش خدمت ہے
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)
ترجمہ اور جب ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں یقیناً وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں

اللہ تعالی ہمیں احادیث نبویہ و کلام الہی کی روشنی میں اس صحافتی میدان میں جہاد اور فساد کی سمجھ عطا فرمائے آمین