تصوراتی طریقہ تدریس، رٹا سسٹم سے بچوں کی آزادی کی طرف ایک اہم پیش رفت

“تصوراتی طریقہ تدریس” اپنی نوعیت کا ایک منفرد طریقہ تدریس ہے جس میں بچوں کو ایک سبق مکمل سیاق وسباق کے ساتھ پڑھا کر اگلے دن اسی سبق کو اہم اجزاء میں تقسیم کر کے الگ الگ جزو کی مشق کروائی جاتی ہے اور پھر سوال جواب کے ذریعے بچوں کے کانسیپٹ کو مزید نکھارا جاتا ہے ” اسکے بعد اس طریقہ تدریس کا اصل ٹرننگ پوائنٹ آتا ہے” یعنی تیسرے دن بچوں کو تھوڑی سی آؤٹ لائنز دینے کے بعد ” 5 منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے پورے سبق کو ڈرامائی انداز میں خود سے ایک فلم کی صورت بنانے کا اعلان کریں جسکے بعد تمام بچے تصوراتی دنیا میں گم ہو جائیں گے اور پھر ہر ایک بچے سے الگ الگ پورے سبق کے مختلف اجزاء کا پوچھا جائے مثلاً آپکے خیال میں وہ لوگ کس طرح اپنی عبادات میں مشغول تھے ؟ کس قسم کے لباس پہنے ہوئے تھے ؟ کیا چیز کھا رہے تھے اور کہاں بیٹھ کر کھا رہے تھے وغیرہ”
میں نے یہ طریقہ تدریس چھٹی جماعت کے بچوں پر تاریخ کا ایک سبق ” وادی سندھ کی تہذیب” پر آزمایا جسکا نتیجہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا یعنی کلاس میں موجود سب سے کمزور ترین بچوں سے سبق کے متعلق مختلف سوالات کے مکمل اور جامع جوابات سن کر دل کو خوشی ہوئی مثلاً میرے ایک سوال ” وہاں کے لوگ کیسے عبادت کر رہے تھے ؟ کے جواب میں ایک ایسا بچہ کھڑا ہوا جو کبھی بھی کلاس میں نہیں بولا اور جواب میں میرے سامنے ہاتھ باندھ کر ایسے جھک گیا جیسے ہندؤ اپنے دیوتاؤں کے آگے جھکتے ہیں ، اب مزے کی بات یہ تھی کہ سوال میں ہندو،مسلمان یا عسائیوں کی عبادت کا ذکر تک نہیں کیا گیا تھا یعنی اس بچے نے دوران سبق یہ سن رکھا تھا کہ وہاں ہندو تہذیب سے ملتے جلتے لوگ آباد تھے تو اسکی کی بنائی گئی فلم میں اسے ہندو ہی نظر آئے ،،
گو کہ یہ طریقہ تدریس تھوڑا صبر آزما ہے لیکن اس میں بچوں کو مشقی سوالات میں رٹا لگانے سے آزادی مل جاتی ہے جس سے انکا وقت اور محنت کم لگتی ہے جبکہ سبق بھی ہمیشہ کے لیے ذہن نشین ہو جاتا ہے اور اسکے علاؤہ اس طریقہ تدریس کے ذریعے بچوّں کی تخلیقی صلاحیتیں لاشعوری طور پر اجاگر ہوتی ہیں۔
یہ طریقہ تدریس میری “ذاتی تخلیق” ہے اس لیے خامیوں سے بھری ہوئی ہوگی لیکن میرے کئی دفعہ کے کامیاب تجربات کی وجہ سے یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اس طریقہ تدریس کو درس و تدریس سے وابستہ لوگوں سے شئیر کیا جائے اور قیمتی آراء سے اس میں مزید نکھار پیدا کیا جائے ، ،
نوٹ ۔ اپنی آراء کے لیے میرے وٹس ایپ نمبر 03459873030 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے جبکہ تحریر میں کمزوری کی وجہ سے ” طریقہ تدریس کے طریقہ کار سمجھ نہ آنے کی صورت میں بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا