سوشل میڈیا اور عام زندگی

سوشل میڈیا اور عام زندگی

تحریر : ملائکہ بیگ

جیسا کے ہم جانتے ہیں سوشل میڈیا کا ہماری زندگیوں پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے جیسے جیسے نئی نئی ٹیکنولوجی جنم لے رہی ہے ویسے ہی عوام اور معاشرے میں بہت سی تبدلیاں نمایا ہو رہی ہیں لوگ آسان سے آسان راستے کی تلاش میں نظر آتے ہیں پہلے پہل لوگوں کو خبریں پہنچانے کا زریعہ اخبارات ہوا کرتے تھے اُس زمانے میں سچی اور جاندار خبریں ہوا کرتی تھیں لوگ اخبارات کو بہت ذوق و شوق سے پڑھا کرتے تھے رات گئے تک بیٹھکوں میں ان خبروں پر تبصرے ہوا کرتے تھے لوگ اپنی اپنی رائے دیا کرتے تھے اور صبح نئے اخبار کے انتظار میں رہا کرتے تھے اس کے کچھ عرصے بعد اخباروں کے ساتھ ساتھ ریڈیو اور ٹی وی نے بھی اپنی جگہ بنا لی لوگوں کو اخبارات کے ساتھ ساتھ دوسرے میڈیا ریڈیو اور ٹیلی ویثرن زیادہ آسان نظر آنے لگے پھر ایک زمانہ ایسا آیا ریڈیو جگہ جگہ گاؤں دیہات شہروں ہر جگہ نظر آنے لگا لوگ اس طرف زیادہ متوجہ ہونے لگے آہستہ آہستہ ریڈیو کے چینل اور ٹیلی ویثرن کے چینل کی تعداد بڑھتی رہی لوگوں کا رجحان اس طرف زیادہ ہوتا گیا لوگ گانے، خبریں, تبصرے سب ریڈیو پر ہی سنتے تھے اس جنریشن میں بھی پرانے گانے بہت ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں پھر ٹی وی نے اپنی جگہ بنائی لوگوں کا سننے کے ساتھ ساتھ دیکھنے کے شوقین ہونے لگے لوگ اپنے فارغ وقت میں اپنے آپ کو پُر سکون کرنے کے لیۓ ٹیلی ویرثن سے بھرپور فائدہ اٹھا نے لگے جس میں نہ صرف ہمیں پاکستان بلکہ پوری دنیا کے متلعق اہم خبریں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں اور اب سوشل میڈیا کا سب سے اہم اور طاقتور زریعہ انٹرنیٹ ہے جس کی وجہ سے ہمیں ایک بٹن کلک کرنے پر پوری دنیا کی خبریں مل جاتی ہیں اور جو بھی اہم معلومات ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس میں ہمیں کوئی شک و شبہہ نہیں ہوتا تمام معلومات حقیقت پر مبنی ہوتی ہے انٹرنیٹ کی بدولت ہم گھر بیٹھے پوری دنیا گھوم سکتے ہیں سوشل میڈیا کی بدولت بہت سے لوگوں کو روزگار فراہم ہوئے میڈیا کی بدولت ہمیں خبروں کے علاوہ انٹرٹینمینٹ, ڈرامے, سٹیج شو, ٹاک شو, فلمیں, سپورٹ وغیرہ اور بہت سے معلوماتی پروگرام بھی دیکھنے کو ملتے ہیں میڈیا معاشرے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے سوشل میڈیا ہی ایک ایسا زریعہ ہے جو ہمیں گھر بیٹھے دوسروں ملکوں کی سیر کرواتا ہے لوگوں کو مشہور کرنے میں سوشل میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے ایک عام شَخص میں قابلیت ہے تو اسے خاص بنانے میں سوشل میڈیا ایک خاص ذریعہ ہوتا ہے آجکل ہمارے پاس چلتا پھرتا کسی بھی معلومات کا زریعہ موجود ہے جو موبائل فون کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے جہاں سوشل میڈیا نے ہماری زندگی آسان اور بہترین کر دی ہے وہاں دوسری طرف اس کے کچھ غلط استعمال سے بہت سی غلط الجھنیں بھی پیدا ہو رہی ہیں ہم مو بائل ہی کہ ہو کر رہ گئے ہیں ہمارا اپنوں سے رابطہ کٹ چکا ہے اب ہمیں یہ نہیں پتا ہوتا ہمارا پڑوسی کس حال میں ہے بیمار ہے یا اٙسے کوئی مسلہ ہے یا ہماری ضرورت ہے یہاں تک کہ ہم اپنے گھر والوں کو سہی وقت نہیں دے پاتے جیسے ہمیں دینا چاہیے موبائل کی وجہ سے ہم اتنا مصروف ہو گئے ہیں کہ ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ہوتی ہماری زندگیوں پر موبائل پر کافی جگہ برا اثر پڑا ہے یا یوں کہہ لیں کہ برا اثر لیا گیا ہے آجکل بچے سے لے کر بڑوں تک ہر کسی کے پاس موبائل فون موجود ہے موبائل کی وجہ سے ماں باپ اپنے بچوں کی سہی سے تربیعت نہیں کر پاتے انھیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ دیکھ کیا رہے ہیں موبائل کی وجہ سے ہم اپنی زمہ داریوں کو بھول گئے ہیں بچوں کو خود پڑھانے کے بجائے ٹیوشن بھیج رہے ہوتے ہیں نہ بچوں پر سہی سے نظر رکھتے ہیں جبکہ ٹیوشن والے خود موبائل میں لگے ہوتے ہیں جانے وہ زمانے کہاں گئے جب مائیں صبح صبح بچوں کو اٹھا کر قرآن پاک کی تلاوت کرواتی تھیں اور دینی معمالات سے آگاہ کرتی تھیں اور خود پرورش کرتی تھیں اب تو بچہ سوتا ہے تو مبائل لے کر سوتا ہے اٹھتا ہے تو موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے موبائل کی وجہ سے ہم دین سے بالکل ہٹ سے گئے ہیں اور گناہوں کی طرف مائل ہو گئے ہیں جب وقت ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنا قیمتی وقت ہم نے کس برے طریقے سے ضائع کیا ہے میرا یقین مانیں سوشل میڈیا بہت اچھی چیز ہے لیکن ہمارے نوجوان اس کا سہی سے استعمال نہی کرتے اور جو سہی سے استعمال کرتے ہیں ان کا ایک الگ مقام اور پہچان ہے اگر اس کا سہی سے استعمال کیا جائے تو ہم پتا نہی کہاں سے کہاں تک پہنچ جائیں گے اور ہماری پہچان اور بھی اچھی ہو جائے گی