محوِ سفر تھی میں اور ابر برس پڑا

محوِ سفر تھی میں اور ابر برس پڑا
گویاکہ ابرغم تھا جو اجالے کا نشاں نہ رہا
گماں رہامنزل کا نہ زیست کا
اب کہ کوچہء جاناں کا بھی پتہ نہ رہا
یکایک کیا غل ہؤا ہے دل مردہ میں
لگتاہے کہ اب جینے کا کوئی ساماں نہ رہا
بستئ دل کی ویرانی کا کیا بتاؤں
شاید کہ ہمارا بھی اب مکاں نہ رہا
راہ حیات میں جو لاحیات ہوگئے
سجدوں میں اب کہ وہ قرینہ حیات نہ رہا
گویا کہ کلمہ مرگ ہو لبوں پر
خوشیوں کا بھی اب وہ ترانہ نہ رہا
اوڑھ لو سب اپنا پردہ منافقت
اب کہ شاید وہ مخلصوں کا بھی زمانہ نہ رہا
مت کر چھوڑ دے تلاش اب رنگینیوں کی
کیونکہ اب تو تتلیوں کا بھی ٹھکانہ نہ رہا
وہ جو بادصبا لاتی تھی پیام صبح
اب اس ہواکا بھی وہ فسانہ نہ رہا
لہو لہو لال ہے درودیوار
چپ بیٹھو کہ اب حق کا بھی زمانہ نہ رہا
رکھ دو قلم زندان میں اے دوست
کہ دردلفظ سے شناسائی کا پروانہ نہ رہا

ازقلم خود
کائنات فاروق
نیشنل یوتھ ٹیلنٹ