امریکا، سعودی عرب کو 650 ملین ڈالر کے ہتھیار فروخت کریگا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکا نے سعودی عرب کے لیے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی 650 ملین ڈالر کی فروخت کی منظوری دے دی۔

بین الاقوامی خبر ایجنسی ’’الجزیرہ‘‘ کے مطابق پینٹاگون اس حوالے سے بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بائیڈن انتظامیہ کا خلیجی ریاست کے ساتھ ہتھیاروں کا پہلا بڑا سودا ہوگا۔

پینٹاگون نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مدد کے لیے فروخت کی منظوری دی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ مجوزہ فروخت ایک دوست ملک کی سلامتی کو بہتر بنانے میں مدد دے کر امریکا کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کو سپورٹ کرے گی جو مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور اقتصادی پیش رفت کے لیے ایک اہم قوت ہے‘‘۔

میساچوسٹس میں قائم فرم ریتھیون سعودی عرب کو اے آئی ایم120 سی7/سی8 ایڈوانس میڈیم رینج ایئر ٹو ایئر میزائلز اور متعلقہ سامان فروخت کرے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ یمن میں سعودی عرب کی جانب سے ’’جارحانہ کارروائیوں‘‘ کے باعث امریکا اپنی حمایت سمیت ہتھیاروں کی فروخت ختم کر دے گا۔ تاہم، اب امریکا کی جانب سے ایک بڑی ڈیل سامنے آئی ہے۔

ہتھیاروں کی فروخت کے لیے کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے، لیکن قانون ساز سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں نامنظور بل پاس کر کے معاہدے کو روک سکتے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی فروخت انتظامیہ کے وعدے کے مطابق ہے۔ یمن میں تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ سعودی عرب کے پاس ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے فضائی حملے روکنے کے لیے دفاع کے ذرائع موجود ہوں۔