میں اس لئے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے

میں اس لئے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے

شبیلہ حفیظ

یہاں خواتین کی اصلاح کے لئے کچھ الفاظ کہنا چاہوں گی۔ میں نے بہت جگہ پہ دیکھا ہے کہ ایک عورت ہی اپنے گھر کو برباد کرتی ہیں۔ وہ بیوی کی صورت میں ہو، ساس کی صورت میں ہو، نند کی صورت میں ہو، معذرت چاہتی ہوں کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرد کے دماغ کو خراب کرنے والی بھی ایک عورت ہے۔ وہ اگر ماں ہے تو اپنے بیٹے کے دماغ میں اس کی بیوی کے بارے غلط فہمی پیدا کرنے والی عورت ہے۔ اگر بیوی ہے تو وہ اپنے خاوند کے دماغ میں اس کی ماں بہنوں کے بارے میں غلط بیانی کرنے والی عورت ہے۔ حتی کہ کوئی بھی کام ہے تو اس میں پہل کرنے والی عورت ہے۔
ایسا کیوں ہے؟
کیا کوئی سوچنے کی کوشش کرنا چاہے گا ؟؟؟
وجہ یہ ہے کہ ہماری اسلام سے دوری کی وجہ سے یہ المیہ ہے۔ کیا ہم نے سیدہ خدیجتہ الکبری کی حیات طیبہ کو پڑھنے کی کوشش کی۔
کیا کبھی ہم نے یہ جاننا چاہ کہ سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی ہستی کیا تھیں؟
ہم دعا مانگیں تو واسطہ دیں کہ سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کا ساتھ مانگیں اور جب ہماری عملی زندگی کو دیکھا جائے کہیں سے یہ محسوس نہیں ہوتا ہے کہ ہم انکا واسطہ دینے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ ہم مسلمان ہیں ہم لباس میں پینٹ شرٹ پہن کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ والدین اپنی بچیوں کو جینز پہنا کر خوش ہوتے ہیں جب وہی بچیاں بالغ ہو جاتی ہیں تب وہی ماں باپ انکی ٹیچرز اور دیگر سے خواتین سے درخواست کی جاتی ہےکہ اب انکو یوں تیار کردیں کہ جیسے یہ بہت دینی فیملی سے ہیں تب وہ بچیاں کسی کو خاطر میں نہیں لاتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں جینز پہن کر ہم لیڈی ڈیانا بن گئی ہیں۔ ہمیں کسی کی نصیحت و عظ کی ضرورت نہیں ہے۔
خدارا! اپنی بچیوں کو سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی حیات مبارکہ کو پڑھائے۔ انکو صحابیات کی زندگیوں کو پڑھنے کا موقع فراہم کریں تاکہ وہ ان تمام غلط فہمیاں اپنے ذہن و دماغوں میں پیدا نہ کر سکے۔
انکو صبرو تحمل استقامت برداشت کرنے کے پہلوؤں سے آگاہی کروائے۔