ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم نے کونسے ریکارڈز اپنے نام کیے؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں جمعرات کے روز آسٹریلیا کے ہاتھوں سیمی فائنل میں شکست کے بعد قومی ٹیم کا ورلڈکپ میں سفر ختم ہوا۔ پاکستان ٹیم کو آسٹریلیا کے خلاف شکست ضرور ہوئی  لیکن شاہینوں نے پورے ورلڈکپ میں اپنی عمدہ کارکردگی سے شائقین کرکٹ کے دل جیتے۔ آئیں نظر ڈالتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں  شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کونسے ریکارڈز اپنے نام کیے۔

بھارت کے خلاف 10 وکٹوں سے کامیابی

پاکستان نے 24 اکتوبر کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے پہلے میچ میں بھارت کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 10 وکٹوں سےشکست دی تھی۔ پاکستان نے اپنی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کی تاریخ میں پہلی بار کسی بھی ٹیم کو 10 وکٹوں سے شکست دی جبکہ بھارت کو پہلی بار کسی بھی ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی میچ میں 10 وکٹ سے ہرایا۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 10 وکٹ سے میچ جیتنے والی چوتھی ٹیم بھی بنی۔ واضح رہے کہ پاکستان نے بھارت کو پہلی بار کسی بھی ورلڈکپ میں شکست دی ۔

کسی بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پہلی وکٹ کیلئے 152 رنز کی شراکت داری

پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں  بابر اعظم اور محمد رضوان کی 152 رنز کی شراکت داری کی بدولت بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی۔ بابر  اور  رضوان کے درمیان پہلی وکٹ پر  152 رنز کی شراکت داری کسی بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پہلی وکٹ کیلئے سب سے بڑی شراکت داری ہے۔ اس کے علاوہ بابر اعظم اور محمد رضوان نے پہلی وکٹ کیلئے 152 رنز کی ناقابل شکست شراکت بناکر بھارت کیخلاف کسی بھی ٹیم کی جانب سے کسی بھی وکٹ پر ٹی ٹوئنٹیز کی سب سے بڑی شراکت بنائی۔

اس سے قبل یہ ریکارڈ آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر اور شین واٹسن کے پاس تھا ،دونوں نے 2012 میں بھارت کے خلاف 133 رنز کی شراکت بنائی تھی ۔ یہ شراکت بھارت کیخلاف کسی بھی وکٹ پر پاکستان کی بہترین شراکت تو پہلے ہی بن چکی تھی جب دونوں ٹیم کے 107 ویں رن کیلئے دوڑے ۔ اس سے قبل 2012 میں حفیظ اور شعیب ملک نے 106 رنز کی شراکت چوتھی وکٹ پر بنائی تھی۔ اس کے علاوہ یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلوں میں بھی کسی بھی وکٹ پر پاکستان کی سب سے بڑی شراکت ہے ،اس سے قبل 2010 میں سلمان بٹ اور کامران اکمل نے بنگلا دیش کیخلاف 142 رنز کی شراکت قائم کی تھی ۔

آصف علی کے ایک اوور میں 4 چھکے

 آصف علی افغانستان کے خلاف ایک اوور میں 4 چھکے لگانے کے بعد ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان کی جانب سے ایک اوور میں 4 چھکے لگانے والے پہلے بیٹسمین بنے۔ واضح رہے کہ آصف علی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ میں افغانستان کے خلاف 19 ویں اوور میں 4 چھکے لگا کر پاکستان کو ٹورنامنٹ میں مسلسل تیسری فتح سے ہمکنار کروایا تھا اور میچ کے بہتری کھلاڑی قرار پائے تھے۔

شعیب ملک کی پاکستان کی جانب سے تیز ترین نصف سنچری

شعیب ملک  ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں تیزترین نصف سنچری بنانے والے پاکستانی بنے۔ شعیب ملک نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچ میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 18 گیندوں پر ففٹی بنائی اور 54 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کی اننگز میں 6 چھکے اور ایک چوکا شامل تھا۔ اس سے قبل عمر اکمل نے 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف 21 گیندوں پر نصف سنچری بنائی تھی۔

قومی ٹیم  پہلی بار ناقابل شکست رہتے ہوئے ورلڈکپ سیمی فائنل میں پہنچی

پاکستان کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر 12 مرحلے میں اپنے تمام میچز(5) جیت کر گروپ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی تھی۔ قومی کرکٹ ٹیم رواں ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں پہلے ہی پہنچ چکی تھی تاہم اسکاٹ لینڈ کے خلاف اپنے آخری گروپ میچ میں کامیابی کے بعد سپر 12 مرحلے میں اپنے تمام میچز جیت کر گروپ میچز میں ناقابل شکست رہنے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ قومی ٹیم گروپ میچز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں پہنچی تھی۔ گرین شرٹس نے11 مرتبہ ورلڈکپ کے سیمی فائنلز کے کیلئے کوالیفائی کیا ،جن میں 6 بار 50 اوورز اور 5 بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ شامل ہیں۔

بابراعظم کا ڈیبیو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ

بابر اعظم نے ڈیبیو ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ بابر اعظم نے رواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں مجموعی طور پر 303 رنز بنائے جو کسی بھی بیٹسمین کے اپنے  پہلےٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز ہیں۔ ان سے قبل ڈیبیو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ  آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن کے پاس تھا۔ انہوں نے 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 265 رنز بنائے تھے پہلی بار پاکستان ٹیم 6 لگاتار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز اپنی ایک ہی ٹیم کے ساتھ کھیلی۔ اس کے علاوہ پاکستان کرکٹ ٹیم پہلی بار 6 لگاتار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز اپنی ایک ہی ٹیم کے ساتھ کھیلی۔ قومی ٹیم نے رواں ورلڈکپ میں 6 میچز کھیلے اور 6 میچز میں اپنی ٹیم میں  ایک بھی تبدیلی نہیں کی۔