آج کا طالب علم کل کا مستقبل

آج کا طالب علم کل کا مستقبل

کنول طارق

ہم نوجوان نسل اکسویں صدی کے جس جدید دور کے دوراہے پر کھڑے ہیں اسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی- وہی قومیں دنیا میں کامیاب ہوتی ہیں جو خود کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرتی ہیں۔ اس گہما گہمی کے دور میں سب سے ذیادہ متاثر طالب علم،تعلیمی ادارے اور کاروبار ہوئے ہیں۔ طالب علمی کے اس سفر کا آغاز قلم،دوات اور تختی سے ہوا تھا جو کہ نئی ٹیکنالوجی سے مزین ہو کر اب کاغذ سے جزوی طور پر ٹیبز،سمارٹ فون اور لیپ ٹاپس پر منتقل ہو چکا ہے۔ آجکل کے طالبعلموں میں پڑھائی کے لوازمات سے آشنائی، درسگاہ کا تکرم اور اساتذہ کے لئے ادب و فر مانبرداری کے رجحانات کی کمی ہے۔ عموما سب مجموعی طور پر نمبرز کی اس اندھا دھن ریس میں مگن ہیں۔ نتیجتا آجکا طالبعلم معیاری میرٹ کے اس بھونچال میں جیت جائیگا اور بلآخر اخلاقی گراوٹ و پسماندگی کے ہاتھوں منہ کی کھائے گا۔ جب طلبہ و طالبات اساتذہ کو اپنا روحانی پیشوا بنا کر ان سے استفادہ نہیں کریں گے تو غیور اور ترقی یافتہ اقوام کے بجائے بزدل،کاہل اور غیر ہنر مند افراد طالبعلموں کے روپ میں سامنے آئیں گے۔ تو چلیں آئیں آج ہی سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم سب طالبعلم اپنے حصے کا دیپ جلائیں گے۔ اپنے انمول اساتذہ اور انکے پرکھںوں کی روایات کو برقرار رکھیں گے۔ آجکے طالبعلم کو صرف زندگی کا نصب العین متعین کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کل ایک تابناک مستقبل اسکا استقبال کرے۔ آجکا طالبعلم جدت تعلیم سے فیضیاب ہو کر اس بناوٹی دور میں بھی حقیقی فتح کے جھنڈے گار سکتا ہے۔ ہمیں کاغذی ملمع کاری سے بالا تر ہو کر مذہب اسلام کی نہج پر گامزن ہونا ہوگا، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنانا ہو گا۔ آج کا طالبعلم حقیقی معنوں میں سرخرو ہی تب ہو سکتا ہے جب وہ تعیلم کو ‘جاننا ہے’ سمجھ کہ حاصل کرے اور ایسا ممکن تحقیق اور کتب بینی سے ہی ہے۔