اُمید

اُمید
بلال احمد خان

تاریخ اسلام کے ابتدائی دور میں خبر رسانی کے لیے کوئی منظم ادارہ موجود نہ تھا ۔ پہلی دفعہ اس کی طرف حضرت عمر فاروق رضہ کے دور میں قدم بڑھایا گیا ،لیکن فخری عرب مورخ کے قول کے مطابق امیر معاویہ رضہ نے پہلی دفعہ خبر رسانی کے لیے ” البرید” یعنی ڈاک کے محکمہ کا آغاز کیا ۔ البرید فارسی اور عربی کے الفاظ کا مجموعہ ہے جس کے مطابق فارسی میں البرید ، بروں سے نکلا ہے جس کے معنی تیز رفتار گھوڑے کے ہیں ، جب کے عربی میں البرید برضان سے نکلا ہے جس کے معنی بوجھ اٹھانے والا گھوڑا ہے ۔ بنو امیہ دور حکومت کے خلیفہ عبدالمالک کے عہد میں البرید کے نظام میں مزید توسیع کی گئی اور نظام کو مزید منظم کیا گیا تھا ۔ دمشق سے صوبائی صدر مقامات جانے والی سڑکوں پر ہر میل کے فاصلے پر ایک چوکی قائم کی گئی جس پر ایک صاحب البرید اپنے گھوڑے کے ساتھ ڈیوٹی پر موجود رہتا جس کا کام ڈاک کو ایک چوکی سے دوسری چوکی اور اِسی طرح ڈاک کو منزل مقصود تک پہنچنانے تک یہ سلسلہ جاری رہتا، البرید کو بادشاہ کی سرکاری خط و خطابت کی ترسیل اور خبروں کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ بنو امیہ کے دور حکومت کے بعد عباسیہ دور کا آغاز خبر کی دُنیا میں ساسانی رنگ اختیار کر گیا ۔ خلیفہ ہارون الرشید کے ایرانی وزیر یلحی نے برید کا نظام نئے سرے سے قائم کیا ۔ عرب سعودی مؤ رخ لکھتے ہیں ” صاحب البرید کی جگہ کبوتروں کو تربیت دی جاتی تھی اور ان سے نامہ بر کا کام لیا جاتا تھا ، جس کی پہلی مثال 816 میں خلیفہ المحہم کو اپنے فرقے کے رہنما بابک کی گرفتاری کی اطلاع نامہ بر کبوتر کے ذریعے سے وصول ہوئی ۔ خبر کی دُنیا عباسیہ دور حکومت کے طرز سے مزید تقویت کی طرف چل پڑی اور اشوک بادشاہ کے عہد حکومت میں جب مذہب اور ریاست کو ایک دوسرے میں ضم کیا گیا تو اس وقت خبر حاصل کرنے کے لیے بادشاہ کے پاس معتدد ذریعے موجود تھے ،جن میں لوگوں کی خفیہ سرگرمیاں ہوں یا سرکاری محکموں کی کارگزاریاں بادشاہ کے متعین کردہ جاسوس دربار عالیہ میں رپورٹر کے فرائض سرانجام دیتے ۔ ہندوستانی تاریخ میں نظام البريد کے ساتھ ہی ساتھ وقائع نگار اور اور اخبار نویسی کے دور کا بھی آغاز ہوا ۔ اخبار نویسی کا کام عام رعایا کے لیے نہیں بلکہ بادشاہ اور اس کے وزیروں مشیروں کو ملکی حالات سے باخبر رکھنے کے لیےکیا جاتا تھا ۔ برصغیر پاک و ہند میں برید کا نظام غزنوی خاندان کے حکمرانوں نے شروع کیا ، سلاطین دہلی کے دور میں اس نظام کو مزید توسیع کیا گیا ۔ غیاث الدین بلبن کے دور حکومت میں برید کے نظام میں توسیع کی گئی اور دُور دراز علاقوں تک کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جہاں برید کی سہولت میسر نہ ہو ، محمّد تغلق نے نظام خبر رسانی میں کمال درجہ ترقی کی ، ابن بطوطہ کے سفر نامے کے مطابق اس عہد میں خبر کو ایک شہر سے دوسرے تک لے جانے کے لیے جدید طرز کے گھوڑے اور پیادہ فورس کا انتظام کیا گیا ، شیر شاہ سوری کے عہد میں ڈاک نظام کے لیے سڑک کے کناروں پر قائم ڈاک چوکیاں قائم تھی ، اخبار نویسی کے نظام کو اصل رُخ مغلیہ سلطنت نے دیا ، اکبر پہلا مغل حکمران تھا جس نے خبر نویسی اور وقائع نگاری کے لیے نہایت جامع نظام قائم کیا اور بتدریج یہ نظام ترقی کی منازل طے کرتا ہوا اورنگزیب عالمگیر کے دور میں اپنے عروج کو پہنچا ۔ عرب میں اخبار نویسی کا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا لیکن یورپ نے ایک قدم آگے چل کے ” قلمی خبرنامہ” کا آغاز کیا جس کی شروعات 1566 میں وینس (Vanis ) کے شہر سے ہوئی، ایک عام سا شخص شاہراہِ پر کھڑا ہو کر با آواز بلند عوامی دلچسپی کی خبریں تیار کردہ مسودے سے پڑھ کے سناتا۔ سولہویں صدی انگلستان میں یہ دستور قائم کیا گیا کے کوئی اہم پیش واقعہ جس سے عوام کا برائے راست تعلق ہوتا تو حکومت ایک خبر نامہ جاری کرتی جسے نیوز شیٹ (News Sheet ) کہتے تھے ، اور یہ بھی قلمی صورت میں ہوتا تھا ۔ قلمی صورت کو باقاعدہ ترتیب دے کر اخبار کی صورت کا آغاز بھی یورپ کو جاتا ہے ۔ یورپ نے باقاعدہ ترتیب شدہ ” مطبوعہ اخبار ” کا آغاز 1609 میں جرمنی سے کیا جس کا نام Avis Relation Orderzeiturng ) تھا ۔ بعدازاں اُسی سال انگلستان میں پہلے پہل 1611 میں نیوز فرام سپین (News from Spain) کے نام سے شائع ہوا ، اسی طرح باضابطہ انگریزی اخبار 1620 میں ویکلی نیوز (Weekly News ) کے نام سے شائع ہوا۔ بنو امیہ کے البرید نظام سے لے کر یورپ کی باضابطہ انگریزی اخبار تک کے سفر میں کئی تبدیلیاں اور کہی ترقیاں سامنے آئی جن کے بعد کہیں جا کر مطبوعہ اخبار کا آغاز ہوا ۔