نوجوان نسل کا زوال اور کلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال | شمائلہ تبسم

نوجوان نسل کا زوال اور کلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ

تحریر : شمائلہ تبسم , اسٹوڈنٹ ایل ایل بی فائنل ایئر اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد

اقبال کی شخصیت پر کچھ بھی لکھنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، مگر ایک کوشش کر رہی ہوں جس سے ہر طبقہ فکر کے لوگ مستفید ہو سکیں۔
اقبال ان مفکرین اسلام میں سے ہیں جن کا تفکر فرد اور ملت دونوں سے مربوط ہے۔
اقبال شاعر بھی ہیں اور فلسفی بھی، خودی کے شناس بھی ہیں اور بے خودی کے رمز شناس بھی، جہاں نظریہ مرد مومن کے ترجمان ہیں تو مغربیت کے منفی عنصر کے خلاف بھی۔
اقبال کا کلام ہر دور اور ہر عہد کے لیے تھا حتٰی کہ بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر شخص کے لیے مشعل راہ ہے کیونکہ اس میں ہمارے اسلاف کے شاندار ماضی کا زکر بھی ہے، اور ہمارے حال کو بہتر بنانے کے لیئے سبق بھی۔
جہاں اقبال نوجوان نسل کو ناموسِ ازل کا امین و پاسبان قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف مومن کے ہاتھ کو اللّٰہ کا ہاتھ قرار دیتے ہیں۔
آپ عورت کے لئے وہی طرزِ حیات پسند کرتے تھے جو اسلام نے حکم دیا اور جو شریعت کے عین مطابق ہے۔جس میں عورتیں شرم و حیا اور احساس عفت وعصمت میں آج سے کہیں آگے اور شرعی پردے کے ساتھ بھی زندگی کی تمام سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔
اگر ہمارے اسلاف نے عروج حاصل کیا اور فتوحات ان کا مقدر بنی تو اسکی بنیادی وجہ ان کا ایمان اور اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونا تھا۔ آج مغربی تہذیب کی چکا چوند نوجوان نسل کے سینوں میں دبی ایمان کی چنگاری کو بجانے کی کوشش میں ہے۔
ہمارے زوال کی وجہ اتفاق و اتحاد کا پارہ پارہ ہونا ہے، ہم کہیں گروہ بندی اور زات پات کا شکار ہیں تو کہیں سیاسی طور پر خلفشار کا شکار ہیں۔
تن آسانی، کاہلی اور بے حسی ہمارے زوال کی وجوہات ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اقبال کے پیغام کو پہچانیں۔اور وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوں،کیونکہ اقبال کا کلام اللّٰہ کے دین کی سربلندی اور اسوہ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی اشاعت میں پوشیدہ ہے۔
آج بھی ہم اپنا وہ شاندار ماضی وہ عہد دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں اگر ہم توحید و رسالت کی روح کو سمجھتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوں ، کیونکہ مغربی تہذیب اپناکردار ادا کر چکی ہے، اسکی زندگی کے دن پورے ہو چکے ہیں، ضعف اس کے چہرےسے عیاں ہے اور اسکا وجود آخری سانسیں لے رہا ہے۔

جہان نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالم پیر مر رہا ہے۔
جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمارخانہ۔