سرخ آنکھیں اور جلد کی خارش بھی اومی کرون کی علامات قرار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی ماہرین نے حال ہی میں ایک مطالعے کا انعقاد کیا، جس میں اومی کرون اور کرونا کی علامات کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، اس دوران تحقیقی ٹیم نے کرونا سے متاثر ہونے والے افراد کی معلومات جمع کیں اور اُن کے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے جانکاری حاصل کی۔

ماہرین کے مطابق ڈیٹا سے یہ بات سامنے آئی کہ حال ہی میں جن لوگوں کو کرونا یا اومی کرون کی تشخیص ہوئی انہیں روایتی علامات جیسے بخار، سانس لینے میں دشواری ، نزلہ،  جسم اور سر میں درد سمیت دیگر ظاہر نہیں ہوئیں البتہ 3 فیصد مریضوں کو آنکھیں سرخ، بال گرنے اور جلد متاثر ہونے کی شکایات تھیں۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد اینزائم 2 میں تبدیل ہوکر آنکھوں اور بالخصوص ریٹینا کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کی آنکھ کی سفیدی لال ہونے، آنکھوں میں خشکی، کھجلی اور سوجن کی شکایت ہوتیں ہیں۔

امریکن اکیڈمی آف ڈرمٹالوجی ایسوسی ایشن کے ماہرین نے بتایا کہ مطالعے کے دوران کچھ ایسے شواہد بھی سامنے آئے جس کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ متاثرہ شخص کے بال تیزی سے گرتے ہیں۔

ماہرین نے بتایاکہ بخار اور مدافعتی نظام کی کمزوری سے انسان جسمانی طور پر کمزور ہوتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر انسان کی کھوپڑی پر پڑتا اور پھر بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

تحقیقی ماہرین نے بتایا کہ ابتدائی 6 ماہ کے دوران بال بہت زیادہ جھڑتے ہیں جبکہ 9ویں مہینے میں یہ سلسلہ رُک جاتا ہے اور پھر بالوں کی نشوونما پہلے کی دوبارہ طرح شروع ہوجاتی ہے۔

علاوہ ازیں ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو اومی کرون کی تشخیص ہوئی انہیں جلدی بیماری یا خارش بھی شکایت بھی تھی۔

کیٹاگری میں : صحت