بے حیائی کی پھیلتی وبا اور روک تھام | محمد سہیل احمد

بے حیائی کی پھیلتی وبا اور روک تھام

تحریر: محمد سہیل احمد

ہمارا دین اخلاقی اقدار کی بھرپور حفاظت کرتا دکھائی دیتا ہے دین اسلام اس بات پر مکمل طور پر پابندی عائد کرتا ہے اخلاقیات سے گری ہوئی حرکت کی جائے اور پھر اس کو اپنی خوبی گنا جائے. ہماری امت ہو یا سابقہ تمام امتیں ایک بات جس کو سنہرے حروف کے ساتھ لکھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ” جب تمہیں حیاء نہ رہے تو جو جی میں آئے کرتے پھرو” یہ کتنی عجیب بات ہے کہ حیاء کا تعلق ہمارے ایمان کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے دو اشخاص میں سے ایک دوسرے کو کہتا ہے “تم بہت شرمیلے ہو” اتنے میں سیدی رسولﷲﷺ کا گزر ان کے پاس سے ہوتا ہے تو آپ انہیں یہ نصحیت کرتے ہیں کہ “شرم و حیاء اسلام کی ایک شاخ ہے” صحیح البخاری کی روایت ہے کہ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ اور حیاء ( شرم ) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔” سیدی رسولﷲﷺ کا مزید فرمان عالی شان ہے کہ ”حیاء سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔“ [ آج بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا معاشرتی نظام بڑی تیزی کے ساتھ زوال کی جانب بڑھتا چلا جارہا ہے گلی محلوں کی جانب نظر دوڑائی جائے جگہ جگہ ہماری اخلاقیات کے جنازے اٹھتے دکھائی دیتے ہیں. نوجوانانِ اہل وطن ہوں یا پھر بزرگان چھوٹے بچے ہو پھر اہل علم اکثریت اپنے بول چال میں حیاء کو پس پشت ڈالتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ہماری ترجیحات میں یہ شامل ہی نہیں ہے کہ چھوٹے کو بڑے سے کس طرح سے بات کرنی چاہیے بڑوں کو چھوٹوں پر شفقت بھرا ہاتھ کس طرح رکھنا ہے. گالم گلوچ ہماری زبانوں پر پانی کی طرح روا دواں ہے ہمارے تو سوچنے سمجھنے کا زاویہ ہی بدل گیا ہے آج دوستیوں کا معیار یہ ہوگیا ہے کہ دیکھا جاتا کون سا دوست زیادہ بدتمیز بد تہزیب ہے اور کس بے تکلفانہ طریقے سے گفتگو کرتا ہے اس پر افسوس ان چیزوں کو برا ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ گہرے تعلقات کی جڑ تصور کیا جاتا ہے. ہماری ریاست کی لاعلمی تصور کرلیجیۓ یا جان بوجھ کر ان شرم ناک رویوں کو نظر انداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے. احباب اچھی طرح سے آگاہ ہیں کہ حال ہی میں کرونا وائرس کی وحشتوں سے بچنے کےلئے ریاستی سطح پر بھرپور مہم چلا کر حکومتی احکامات پر عمل درآمد کرایا گیا ہے یقینی طور پر یہ عمل قابل تحسین اور قابل تقلید بھی ہے کہ جس طرح سے اس وبا کو روکا گیا ہے اس کی تقلید کرتے ہوئے تیزی سے پھیلتی بے حیائی فحاشی اور بد تہزیبی کو بھی روکا جائے. اس مقصد کےلئے سب سے کارآمد دو زرائع ہیں ‘میڈیا اور تعلیمی ادارے’ لیکن افسوس در افسوس ہمارا میڈیا ہماری اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرنے میں کسی طرح سے پیچھے نہیں ہے. پچھلے زمانے میں جو باتیں شرم کے قابل سمجھی جاتی تھیں اور جن کا ذکر کرنا بہت ہی معیوب سمجھا جاتا تھا اب وہ باتیں عام سی لگتی ہیں لوگ کھلے عام اس کا تذکرہ کر رہے ہوتے ہیں اس کی مثال موجودہ دور کا میڈیا ہے جس میں ہر چیز کھلے عام دکھائی جا رہی ہے جس میں مرد و عورت کا اختلاط، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا، عورتوں کی نیم برہنہ اور عریاں تصاویر کی نمائش، اسٹیج پر عورتوں کا ناچنا، ڈراموں اور فلموں میں شراب نوشی، فضول گوئی، بد کلامی اورعلی الاعلان برے کام، پوشیدہ جنسی جرائم کی کھلے عام تشہیر کرنا اب تو سکولز کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی تفریح کے نام پر میوزیکل کنسرٹ رکھے جارہے ہیں جہاں ہمارے قلوب و اذہان کو پاک اور صاف نظریات کے ساتھ پروان چڑھنا تھا وہی اب بے حیائی کے سبق پڑھائے جارہے ہیں. جن معصوم ہاتھوں نے سائنسی میدان میں نت نئی ایجادات کرنی تھیں وہ گانوں پر تالیاں بجاتے نظر آرہے ہیں. تعلیمی درسگاہیں تربیت کرنے کےلئے قائم کی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں اب یہ پیسے بنانے اور فحاشی و عریانیت پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں. موجودہ حکمران حیاء دار نظام نافذ کرنے کا سب سے زیادہ عزم کرتے ہیں لیکن افسوس ابھی تک کوئی عملی حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی ہمارے پاس اب بھی وقت ہے بے شرمی کے بڑھتے طوفان کو ہنگامی بنیادوں پر روکا جائے ملک گیر مہم چلائی جائے آقا کریم سیدی رسولﷲﷺ کے ارشادات ؤ فرمودات کو ہر صورت عام کیا جائے وگرنہ مغرب کی طرح ہم اپنا معاشرتی ؤ خاندانی نظام تباہ کر بیٹھیں گے. نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے حیاء کے متعلق مرد و زن دونوں کو یکساں تاکیدی احکامات ورہنمائی دی ہے ایک موقعہ پر ارشادفرمایا ‘علموا رجالکم سورۃ المائدہ وعلموا نساؤکم سورۃ النور’ “اپنے مردوں کو سورہ مائدہ اور عورتوں کو سورہ نور کی سکھلاؤ, کیونکہ ان سورتوں میں پاکیزہ زندگی کے طور طریق بیان کئے گئے ہیں” آئیے آپ کو حیاء کے متعلق سیدی رسولﷲﷺ کے چند فرامین پڑھنے کو دیتے ہیں حضرت زید بن طلحہ ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک ہر دین کی کچھ امتیازی خصوصیات ہیں اور اسلام کی امتیازی خصوصیت حیا ہے ۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ فحش گوئی جس چیز میں ہو ، وہ اسے معیوب بنا دیتی ہے اور حیا جس چیز میں ہو وہ اسے مزین کر دیتا ہے ۔‘‘ (رواہ الترمذی)
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حیا ایمان کا حصہ ہے ، اور ایمان (والے) جنت میں ہوں گے ، جبکہ فحش گوئی برائی ہے اور برائی (والے) جہنم میں جائیں گے ۔‘‘ (رواہ احمد و الترمذی)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عصری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں: ایک حلم اور دوسری حیاء(ابنِ ماجہ)