ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروا کی پسماندگی کا زمہ دار کون؟ | تحمل عباس

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروا کی پسماندگی کا زمہ دار کون؟

تحریر: تحمل عباس

خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع کا آخری ضلع ڈیرہ اسماعیل خان ہھے اور ڈئی آئی خان کے جنوبی سرکل تحصیل پروا میں ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبرپختونخواہ کی حدود ختم ہوتی ہھے، دریائے سندھ کے کنارے آباد تحصیل پروا سات یونین کونسلوں پر مشتمل جسکی حدود جنوب کی جانب صوبہ پنجاب کے ساتھ جا ملتی ہھے جبکہ شرقی جانب دریائے سندھ اور اُس کے پار بھی صوبہ پنجاب کا ٹکراو ہوتا ہھے 2005ء کو ایم ایم اے کے دور حکومت میں پروا کو تحصیل کا درجہ دیا گیا، تحصیل پروا میں تین بڑی شوگر ملز انڈسٹریاں عرصہ سے قائم کام کر رہی ہھے جہاں سے حکومت سالانہ کروڑوں روپے ٹکس کی مد میں وصول کرتی ہھے اسکے علاوہ آبیانے فردِ جائیداد اور مختلف ٹیکسوں کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے حکومتی خزانے کو جاتے ہیں، جنوبی اضلاع کی واحد علمی درسگاہ جامعہ گومل یونیورسٹی بھی تحصیل پروا میں قائم ہھے جہاں 1974 سے درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا اور جاری ہھے اس علمی درسگاہ میں اندرون ملک کے مختلف شہروں سمیت بیرون ملک کے طلباء بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تحصیل پروا کی زمین کاشتکاری کے حوالے سے مالال ہھے یہاں گندم چاول گنا کپاس کی کاشتکاری سرفہرست ہھے جسکو کروڑوں روپے کے عوض انڈسٹریوں اور سرکاری گوداموں کو دیا جاتا ہھے، تحصیل پروا میں اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود علاقہ پھر بھی آپکو پسماندہ نظر آئے گا ڈیرہ اسماعیل خان سے براستہ تحصیل پروا پجناب سفر کریں یا پنجاب تونسہ سے براستہ تحصیل پروا ڈیرہ اسماعیل خان سفر کریں تو انڈس ہائیوے N55 روڈ اس کی حدود میں انتہائی خستہ حالی کا شکار نظر آئے گا جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ اور گڑھے نما نظر آئیں گے جسکے سبب آپ کا سفر یقیناً طویل وقت میں طے ہوگا تحصیل پروا میں مختلف دیہی علاقوں کو جانے کیلے رابطہ سڑکوں کے جال بچھے ہوئے ییں مگر گزرنے کو راستہ نہیں ملے گا کیونکہ عرصہ دراز سے بنی سڑکیں اکھڑ کر ختم ہو چکی ہیں جبکہ بعض علاقوں میں تو سڑکیں سرے سے بنائی ہی نہیں گئیں، تحصیل پروا میں کاشتکاروں کو پانی مہیا کرنے کیلے چشمہ رائٹ بنک کینال سے ایک درجن سے زائد چھوٹی ڈسٹریاں نکالی گئیں جہاں سے کاشت کی گئی فصلات کو پانی دیا جاتا ہھے مگر محکمہ کی پُراسرار غفلت کے سبب نہروں کا کوئی پرسان حال نہیں نہری نظام بھی خستہ حالی کا شکار ہھے نہروں کے کمزور نظر آتے جبکہ بعض مقامات پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں زیادہ پانی آنے کے باعث نہروں کے باہر بہنا شروع ہو جاتا ہے سالانہ پانی بندش کے دنوں میں جہاں ملک بھر میں بھل صفائی کے نام سے نہروں کی صفائی تعمیر و مرمت کی جاتی ہھے مگر کرپشن فری صوبہ خیبرپختونخواہ کے تحصیل پروا کی حدود میں نہروں کی صفائی برائے نام نظر آتی ہھے آج بھی متعدد نہرں مٹی کے اغیار اور سرکنڈوں سے بھرے پڑے ہیں، تحصیل پروا میں بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہھے اول تو لوڈشڈنگ شیڈول کا ہی کسی کو پتہ نہیں اگر چند پڑھے لکھوں کو پتہ ہو بھی سہی تو شیڈول سے ہٹ کر طویل غیراعلانیہ لوڈشڈنگ کی جاتی ہھے بارش یا آندھی کی صورت میں بجلی کئی دنوں تک غائب رہتی ہھے جسکو نامعلوم فالٹ کا نام دے دیا جاتا ہھے جبکہ بجلی کے اوقات کار میں بھی کئی بار ٹرپنگ کے زریعے لوگوں کو زلیل و خوار کیا جاتا ہھے، تحصیل پروا میں سرکاری تعلیم کا نظام(اسکے بارے میں اگلی تحریر تفصیلات کے ساتھ لکھوں گا) آج بھی اُس مقام پر نہیں پہنچ سکا جہاں اسکو ہونا چاہیے دیہی علاقوں میں جاکر دیکھا ہھے تعلیم کیساتھ کیا کھلواڑ ہو رہا ہھے کہیں پر بچوں کے بیٹھنے کیلے جگہ نہیں کہیں پر بچے کھلے آسمان تلے بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں مختصراً یہ کہ دیہاتوں کے اسکولوں میں سہولیات کا فقدان ہھے اور اساتذہ بھی ٹائم پاس کیلے رکھے گئے ہیں،تحصیل پروا میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہھے یہاں لوگ پیسوں کے عوض پانی کے گیلن خرید کر پیتے ہیں، تحصیل پروا صحت کے حوالے سے بھی کمپرسری کا شکار ہھے یہاں ایک تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال تو موجود ہھے مگر مریضوں کیلے کوئی اچھے ڈاکٹرز نہیں رکھے گئے متعلقہ اسپتال میں مریضوں کیلے سرکاری ادویات بھی ہمیشہ باپید رہتی ہیں ،تحصیل پروا میں سب سے سنگین مسئلہ امن و امان کی دن بدن بگڑتی صورتحال کا ہھے کبھی چوریاں کبھی ڈکیتیاں اور کبھی قتل و غارت نے اس علاقے کے لوگوں کو خوف و خطرات سہنے کا عادی کر دیا ہھے پروا کو تحصیل کا درجہ ملنے کے بعد سے اب تک کئی درجنوں بے گناہ لوگ دہشتگردی کا شکار ہو چکے ہیں جس میں پولیس جوان مرد اور بچے بھی شامل ہیں دہشتگردی سے متاثر ہونے والے متعدد خاندانوں نے اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر یہاں سے کوچ کرنے کو ترجیح دی اور صوبہ پنجاب کے علاقوں میں اپنے ڈیرے لگا لیئے یہاں حالات اس قدر بگڑ چکے ییں کہ شام کے بعد لوگ کہیں دور جانے کو خطرہ سمجھتے ہیں، تحصیل پروا خیبرپختوخواہ کا آخری علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کوئی بڑا افسر خوشی سے کام نہیں کرتا اگر مردان کوہاٹ سوات یا ایبٹ آباد یا کہیں سے تبدیل کر کوئی اسسٹنٹ کمشنر تحصیل پروا آ بھی جائے تو چند دنوں بعد ہی اپنا ٹرانسفر کروا کر بھاگ جاتا ہھے کیونکہ انہوں نے اس علاقہ کو پسماندہ پایا ہھے اس علاقے میں کتنے محکمہ اور ادارے کام کر رہے ہیں صرف چند لوگوں کے علاوہ کسی کو بھی پتہ نہیں ہو گا، سوال یہ ہھے کہ کیوں ازل سے ہی اس تحصیل کو پسماندہ رکھا گیا یا رکھنے کی کوشش کی گئی ایک تحصیل کو آئیں پاکستان کے مطابق جو لوازمات دیئے جانے چاییں وہ اسکو آج تک کیوں نہیں دیئے گئے؟ اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار،ایس ڈی او واپڈا، ایس ڈی او ایریگیشن ایس ڈی او بپلک ہیلتھ محکمہ مال پیسکو تعلیم اور دیگر محکمہ جات کے دفاتر یہاں آج تک کیوں نہیں بنائے گئے؟ کیوں متعلقہ افسران پروا میں بیٹھ کر کام نہیں کرتے؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں اور نہ ہی کبھی کسی نے اواز اٹھائی ہھے کیونکہ پسماندہ علاقہ کے ساتھ ہوتا بھی یہی ہے چند ایک سیاسی وڈیرے اپنے نکلوا لیتے ہیں جبکہ عام لوگ ہمیشہ در در کے محتاج رہے ہیں، ان تمام مسائل کے حل کیلے دو آپشن ہیں ایک ہمیں اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہوگی اور پُرامن طریقے سے سڑکوں پر آنا ہوگا یا پھر ہمیشہ کی طرح پسماندہ رہتے ہوئے کسی مسیحا کا انتظار کرنا ہوگا۔اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔