سانحہ مری کا ذمہ دار کون؟ | نیلوفر

سانحہ مری کا ذمہ دار کون؟

نیلوفر

ملکہ کوہسار سیاحوں کے لیے پاکستان کابہترین سیاحتی مقام ہے جہاں مختلف علاقوں سے ہر سال لوگ برف اور دلکش مناظر دیکھنے أتے ہیں اور اس سال مری میں جو سانحہ ہوا وہ صرف انتظامیہ اور حکومتی کی غفلت کا نتیجہ نہیں ہے کیونکہ خکومت نے ۳۱ دسمبر کو مری کے موسم کے خوالے سے الرٹ جاری کر دیۓ تھے خکومت کی غلطی صرف یہ ہے کہ مری میں پارکنگ کی جگہ اگر کم ہے تو لاکھوں کی تعداد میں گاڈیوں کے داخلے کو کنٹینر لگا کر روکنا چاہیے تھا اور اسکے علاوہ عوام کو موسمی صورتخال کو دیکھتے ہوے مری کا رخ کرنے سے گریذ کرنا چاہیۓ تھا اور اسی غفلت کے نتیجہ میں کافی ذندگیاں اس برف کی وادی میں موت کی نیند سو گیئں۔ اگر چند ہذار گاڈیوں کی پارکنگ کی جگہ تھی تو لاکھوں کی تعداد میں گاڈیوں کا مری میں داخلہ نہیں ہونا چاہیۓ تھا یہاں اس بات کو میں مانتی ہوں جسکی وجہ سے کافی جانی نقصان ہوا۔ مری میں انتظامیہ اپنا عملہ ہر تین سال بعد تبدیل کرتا ہے خکومت سے اپیل ہے کہ ذمہ دار عملہ تعینات کریں۔ مختلف ذدائع سے پتا چلا ہے کہ عوام کا اعتماد مری کے شہر اور یہاں کے لوگوں سے اٹھ گیا ہے کہ اس مشکل وقت میں مری کے لوگوں نے تعاون نہیں کیا مگر یہ بات دراصل خقیقت کے برعکس ہے ۔
عوام کا کہنا ہے کہ مری کے ھوٹل مالکان نے دیگر شہروں سے أنے والے سیاحوں سے ایک دن کا پچاس ہذار بل وصول کیا اور بھی مختلف اشیاء فروشوں نے بہت نا مناسب قیمتیں وصول کیں لہذا وہ لوگ یہاں مری کے مقامی نہیں ہیں وہ دوسرے شہروں سے أ کر مری میں مختلف کاروبار چلا رہے ہیں وہ مری کے مقامی لوگ نہیں ہیں
مری کے مقامی ھوٹلذ کے مالکان بہت کم ہیں اور انہوں نےکھانا اور رھائش ری بنا کسی قسم کی رقم کی وصولی کے انسانیت کا مظاہرہ کیا اور باقی مری کے لوگ بھی خدمت میں پیش پیش رہے۔ اگر دوسرے سیاختی مقام کے لوگ مہمان نواذ ہیں تو مری کے لوگ بھی بھائ چارے کا مظاہرہ کرتے نظر أتے ہیں۔ مری میں اس سانحہ میں جتنی بھی اموات ہوئیں انکے لیے دل نہائیت سوگوار ہے خدا انکے درجات بلند کرے اور انکے لواحقین کو صبرو تحمل عطا کرے أمین