چین کے ساتھ سی پیک معاہدہ انتہائی اہم ہے، روس کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں، آرمی چیف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تقریب سے خطاب میں معید یوسف اور ان کی ٹیم کو اجلاس کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا آپ سے دوبارہ خطاب کرنا باعث فخر ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے مسائل کو شراکت داری سے حل کرنے پر گامزن ہے، خطے کی سیکیورٹی اور استحکام ہماری پالیسی کا حصہ ہے، معاشی اور شہریوں کی سلامتی اہم ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کے حوالے سے آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 90ہزار جانیں قربان کیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مثالی کامیابیاں حاصل کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مقاصد کے حصول کے لیے ملک اور باہر امن اہم ہے اور شہریوں کی خوشحالی اورسلامتی ہماری ترجیح ہے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

افغانستان کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ افغانستان میں امن اواستحکام کے لیے پاکستان عالمی برادری کےساتھ پرعزم ہے، عالمی برادری کےساتھ مل کرافغانستان کی فلاح کے لیے کام کیا۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ یوکرین کی جنگ کے آگے مغرب افغانستان کے عوام کو نہ بھولے، عالمی برادری کو افغانستان کودوبارہ دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکنا ہوگا، پاکستان نے افغانستان سےمتعلق عالمی برادری سے تحفظات کا اظہار کیا ہے ، افغانستان سے متعلق رابطوں کو منقطع نہیں کرنا چاہیے۔

بھارتی میزائل سے متعلق انھوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سپرسانک میزائل کے پاکستان آنے پر شدید تشویش ہے، بھارت نے پاکستان کو میزائل سےمتعلق پہلےآگاہ نہیں کیا، میزائل کے باعث کسی کا بھی جانی نقصان ہوسکتا تھا۔

جنرل قمرجاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت سےمیزائل گرنے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ، بھارت دنیا اور پاکستان کو بتائے کہ اس کے ہتھیارمحفوظ ہیں۔

آرمی چیف نے بتایا کہ ایل اوسی پرفی الحال صورتحال قابل اطمینان ہے، پرامن جنگ بندی سے سرحدوں پرامن ہواہے، پاکستان کیمپ پالیٹکس پریقین نہیں رکھتا، پاکستان سب کے ساتھ مل کرکام کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ سی پیک معاہدہ انتہائی اہم ہے، پاکستان کو یوکرین میں جاری تنازع پرتشویش ہے تاہم روس کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں۔

روس یوکرین جنگ سے متعلق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ روس کایوکرین پرحملہ افسوسناک ہےکیونکہ بہت سےشہری ہلاک ہوچکے ہیں، پاکستان روس اور یوکرین میں جنگ بندی کا مطالبہ کررہا ہے ، دونوں ممالک کے تنازع کو ہاتھوں سے نہیں نکلنا چاہیے۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اس وقت انتہائی اہم پوزیشن میں ہے، پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ڈپلومیسی اورمذاکرات پریقین رکھتا ہے لیکن افغانستان سے متعلق رابطوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے تمام معاملات بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں، پاکستان چاہتاہےبھارت سے آبی مسائل بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔

پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ یوکرین صورتحال میں افغان عوام کونظراندازنہیں کیاجائے، پاکستان یوکرین بحران سے نمٹنے کے لیے سیز فائراور ڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ خطے کو دہشت گردی،موسمیاتی تبدیلی اورغربت کے چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ہم خوشحال اور پر امن پاکستان کے لیے پرعزم ہے۔

انھوں نے کہا کہ کئی وجوہات کے باعث پاکستان روس تعلقات کافی عرصے سرد رہے لیکن حالیہ عرصےمیں روس سے تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ یوکرین کیخلاف روسی جارحیت افسوسناک ہے، یوکرین میں ہزاروں ہلاکتیں،لاکھوں پناہ گزین بن گئے، آدھا ملک تباہ ہو چکا، یوکرین کا معاملہ بہت بڑاسانحہ ہے جسے فوراً روکا جانا چاہیے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ روس کےجائزسیکیورٹی مسائل کے باوجود چھوٹے ملک کیخلاف جارحیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، پاکستان چاہتا ہے یوکرین میں فوراً جارحیت بند اور جنگ بندی کی جائے اور یوکرین مسئلے کے دیرپا حل کیلئے فریقین ڈائیلاگ کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے یوکرین انسانی امداد بھیجی ہے، اسے جاری رکھے گا، یوکرین تنازع کا پھیلاؤ کسی کیلئے فائدہ مند نہیں ہوگا۔