بہتر ماحول سب کی ذمہ داری | ابوبکر صدیق

بہتر ماحول سب کی ذمہ داری

تحریر: ابوبکر صدیق یونی ورسٹی آف نارووال۔

کرہ ارض کے قدرتی ماحول میں بگاڑ پیدا ہونے کی وجہ سے موسمی تبدیلیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دہشتگردی سے زیادہ بڑا مسئلہ موسمی تبدیلیوں کا ہے جس کی وجہ سے موسلا دھار بارشوں سے سیلاب آندھی و طوفان و شدید ترین گرم موسم اور برفانی طوفانوں نے ہر طرح کے جانداروں کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔
اگر ذکر کیا جائے ان کی وجوہات اور ان وجوہات کے اثرات کا تو اس کی بڑی وجوہات میں گرین ہاؤس گیسز میں اضافہ بارانی، جنگلات کی کٹائی، کوئلے اور تیل کے استعمال میں اضافہ اور شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کا دباؤ شامل ہیں۔ ماحول میں بگاڑ کی ایک اور بڑی وجہ صنعتی کارخانے اور کارپوریشنز ہیں جنہوں نے منافع کے حرص میں بنیادی انسانی اور اخلاقی قدروں کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔ اس افراتفری نے ماحول کو مزید بےترتیب کردیا ہے ہم یہ کہتے نہیں تھکتے کہ یہ سب قدرت کی طرف سے ہے مگر یہ حقیقت نظر انداز کر جاتے ہیں کہ ہم اس آلودگی میں برابر کے شریک ہیں۔
اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ پہلا صنعتی انقلاب 1860 میں برطانیہ میں رونما ہوا اس وقت ماحول میں واضح اثرات ظاہر نہیں ہوئے تاہم دوسرے صنعتی انقلاب کے بعد جو امریکہ میں رونما ہوا موسمی تبدیلی کو کچھ کچھ محسوس کیا گیا۔ عالمی درجہ حرارت میں اشاریہ صفر پانچ ڈگری کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکہ کے دوسرے صنعتی انقلاب میں جب وہاں موٹر گاڑیوں، موٹر لاریاں بجلی کے آلات، بھاری مشینیں اور متفرق گھریلو اشیاء تیار کرنے کے کارخانے لگائے گئے تو اس کا ساتھ باقی یورپ ممالک نے بھی دیا۔
جب کوئلے اور تیل کے استعمال میں اضافہ ہوا تو ساٹھ اور ستر کے عشروں میں زمینی، سمندری اور فضائی آلودگی میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔ ان سب وجوہات کے اثرات میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ماحول میں بگاڑ اور آلودگی میں اضافے کی وجہ سے نئے نئے وبائی امراض سے واسطہ پڑا۔ ان وبائی امراض میں سے کچھ کا علاج تو آج تک دریافت بھی نہ ہو سکا۔ جس میں کرونا وائرس فی الحال سرفہرست ہے۔
اکیسویں صدی کے بیس برسوں میں کی جانے والی تحقیق اور اس ضمن میں ہونے والی عالمی کانفرنسوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کوئلے اور تیل کے بڑھتے ہوئے اثرات مضر گیسز کے اخراج دھوئیں اور آلودگی سے فضائی ماحول شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین باربار گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دنیا کو خبردار کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی، سبزیوں، پھلوں، اور غذائی اجناس سے بھی مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں جس سے بچے اور بوڑھے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ہماری ہوا اور پانی آلودہ ہوتے جا رہے ہیں اس کے علاوہ آوازوں اور شور کی آلودگی بھی انسانی سماعت کے لیے بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، ماہرین ماحولیات کے مطابق دو تین دہائیوں سے عالمی سیاحت کے شعبے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے جس میں جین اور روس کے سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا بڑا دخل ہے۔ اس بڑھتی ہوئی سیاحت سے عالمی آلودگی میں 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف شہروں میں آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے بھی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حفظان صحت کے اصولوں سے انحراف اور صفائی ستھرائی کے فقدان سے بیماریاں اور آلودگی بڑھ رہی ہے۔ صنعتی کارخانوں کے فضلے سے سمندری حیات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اس طرح بہت سی اور وجوہات ہیں جو شمار کرنے لگے تو انبار لگ سکتا ہے لیکن اب اگر ماحول کو بہتر بنانے کی بات کی جائے تو اس کے لئے کیا اقدامات ہونے چاہیے اس بات پر غور کیا جائے۔
فہرست میں سب سے پہلے گرین ہاؤس گیسز میں کمی ہے جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ کی جیسی گیسز شامل ہیں۔ یہ گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں، کارخانوں ملز وغیرہ سے نکلنے والے دھوئیں میں شامل ہوتی ہیں۔ ان کے اخراج کو محدود کرکے فضائی آلودگی میں خاصی کمی لائی جا سکتی ہے۔ ان گیسز کو فلٹر سے گزار کر فضا میں خارج کرنا چاہیے تاکہ ممکنہ حد تک کم فضا آلودہ ہو۔ اس کے علاوہ لوگ اگر پرسنل ٹرانسپورٹ کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تو بھی گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ آبی آلودگی میں کمی کے لیے بھی ضروری اقدامات کرنا ضروری ہے۔ صنعتی کارخانوں کا فضلہ ِبنا کسی صفائی کے عمل سے گزارے سمندروں اور دریاؤں میں بہا دیا جاتا ہے جس سے آبی حیات متاثر ہوتے ہیں۔ صنعتی کارخانوں کے مالکان کو اس بات کا پابند کیا جانا چاہئے کہ وہ صنعتی فضلہ خارج کرنے سے پہلے اسے جتنا کم مضر بنا سکے بنائیں۔
علاوہ ازیں ہمیں شجرکاری میں بھی بھرپور حصہ لینا چاہیے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر شجرکاری مہم کا آغاز اور اس میں حصہ لینا چاہیے۔ درخت اور پودے ہمارے ماحول کے لئے قدرتی فلٹر کا کام کرتے ہیں۔ دنیا میں جن علاقوں میں جنگلات کی کمی ہے وہاں موسمی تغیرات نمایاں دیکھے جا سکتے ہیں۔
ایک اور اہم اور کارآمد حل جو میں یہاں پر شامل کرنا چاہوں گا وہ اشیاء کا بار بار استعمال ہے۔ جسے Reuse کا عمل بھی کہا جاتا ہے۔ خصوصی طور پر پلاسٹک کے جتنے بھی اشیاء و آلات ہیں ان کا شعور سے استعمال بہت ضروری ہے۔ بار بار استعمال کرنے سے آلودگی کے ڈھیر بننے سے بچ جاتے ہیں اور زمینی آلودگی میں کمی نمایاں ہوتی ہے۔ یہ چند ضروری اقدامات ہیں جن پر عمل کرنے سے زمینی آلودگی میں کافی سدھار آ سکتا ہے لیکن شرط عمل کرنے کی ہے۔ کرہ ارض کی سلامتی اور آئندہ نسلوں کی بہتری کے لیے آج کی نسل کو ضرور سوچنا ہوگا اور زمینی ماحول کو بہتر بنانے کے لئےکیے گئے اقدامات پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔