دورِ کورونا اور ماحولیات | ابوبکر صدیق

دورِکرونا اور ماحولیات
ابوبکر صدیق

آج کی تاریخ میں بہت ساری تبدیلیوں نے کرونا وائرس کے نام کو تھوڑا دھندلا کر دیا ہے لیکن اس وائرس نے جہاں دنیا میں ہلچل مچا دی تھی وہاں بہت ساری تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آئیں۔ پوری تگ و دو کے ساتھ وائرس کے خلاف کام کیا گیا اور رہنماؤں نے ٹریلین ڈالر وائرس کے خلاف کام کرنے پر صرف کر دیے جس کا نتیجہ حال میں ہمارے سامنے ہے۔ کورونا وائرس نے انسان پر کتنے ظلم ڈھائے اس سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ روزانہ اسی کی خبریں سنائی دیتی تھیں۔ جبکہ دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گیا تھا۔ ایسے میں کوئی اچھی خبر یا بہتری کی طرف اشارہ کریں تو نہ قابلِ یقین محسوس ہوتا تھا۔ مگر کچھ ماہرین اور سائنسدان ایسے بھی تھے جو اپنی تحقیق اور جستجو سے کچھ اچھی خبریں بھی سنا رہے تھے۔
واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے ماہرین ماحولیات اور ماہرین ارضیات نے انکشاف کیا تھا کہ فضا میں پھیلی آلودگی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ آسمان صاف نظر آنے لگا ہے، تارے گنے جا سکتے ہیں، ہوا میں تازگی اور کھلے ماحول میں سکون کا احساس ہوتا ہے۔ سڑکوں میں دوران کرونا ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی جس کی وجہ سے دھواں نظر نہیں آتا تھا۔ خالی موٹروے صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں نہ ہونے کے برابر تھا۔ اعدادوشمار کے مطابق کارخانے بند ہونے کی قدرتی ایندھن کا استعمال نہ ہونے اور سڑکوں سے گاڑیوں کے غائب ہو جانے سے فضائی آلودگی میں 45 فیصد تک کمی ہوگئی ہے۔ فضا میں نائٹروجن آکسائیڈ کی کمی سے صاف ہوا میسر آ رہی ہے۔ کرونا کے ظلم و ستم اپنی جگہ سہی مگر ماحولیات میں تبدیلیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ امراض قلب ،پھیپھڑوں کی بیماریاں وغیرہ میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔
یہ سب کچھ جو ماحول بہتر ہوا تھا وہ کرونا کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں بند ہو جانے کی وجہ سے ہوا تھا۔ لاک ڈاؤن میں زندگیاں جام کر دیں مگر ماحول بہتر ہوگیا تھا۔ اسے قدرت کی طرف سے وارننگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مارچ 2020 کے مہینے سے ہی فضائی ٹریفک کی آمد ورفت میں نمایاں کمی دیکھی جا سکتی تھی۔ پوری دنیا میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ماہرین ارضیات کہتے ہیں کہ ٹریفک اور معاشرتی شور کم ہوجانے سے زمین کی تھرتھراہٹ میں بھی کمی آ گئی تھی۔
ماحولیات کے بنیادی اشارے بتاتے ہیں کہ ان میں کمی ہوئی یا اضافہ ہوا؟ نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے دنیا کے ماحولیاتی نظام میں بگاڑ پیدا ہوتا آ رہا تھا۔ فضا اور سمندر آلودہ ہوئے دنیا میں طرح طرح کے وائرس پھیلنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ چین جو کے دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے کا ذمہ دار ہے اس وقت اس کی فضا میں بھی کچھ بہتری آئی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق چین فضا میں ڈھائی سو ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ داخل کرتا تھا جو برطانیہ کے چھ ماہ کے برابر ہے۔ امریکا آلودگی پھیلانے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے وہاں فضائی آلودگی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جس کی بڑی وجہ لوکل ٹرینیں اور سڑکوں پر ٹریفک کی بندش تھی۔ امریکا فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بہت زیادہ اضافہ کرتا تھا وہاں بھی 45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
ایک سرکاری تنظیم نے ایک سروے رپورٹ میں بتایا ہے کہ کرونا نے ماحولیات کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا اور جنگلی حیاتیات پر بھی کرم کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی ویز اور سڑکوں پر جہاں شکاری شکار کی تلاش میں گھومتے تھے وہ جانور اب ہائی ویز خالی ہونے کی وجہ سے سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ برطانیہ میں ایک سال میں ایک لاکھ کے قریب لومڑیاں اور ہرن ہائی ویز پر کچل دیے جاتے تھے۔ دیگر ممالک میں جنگلی جانور جیسے بارہ سنگھا، خرگوش، بھیڑیے وغیرہ ہزاروں کی تعداد میں ہر سال سڑکوں پر ٹریفک کا شکار ہو جاتے تھے۔ جبکہ کرونا کے دوران سڑکیں صاف رہیں تو ان معصوموں نے بھی سکھ کا سانس لیا۔
بات کر لی جائے اگر ملک پاکستان کی تو ہمارا ملک بھی کرونا کی تباہیوں سے دوچار رہا ہے۔ پاکستان کے کئی بڑے شہروں میں آلودگی کے انڈیکس میں گراوٹ دیکھی گئی تھی۔ لاہور میں لاک ڈاؤن کے دوران شہریوں کا کہنا تھا کہ ماحول صاف ہو گیا ہے آسمان صاف نظر آنے لگا ہے اور فضا میں سانس لینا آسان ہوگیا ہے۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی کرونا کے ماحولیات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جہاں ملک معاشی طور پر اور ڈوب گیا وہاں ماحولیات کا انڈیکس بڑھ گیا۔ بہرحال، پاکستانی حکومت نے مناسب اقدامات اٹھائے اور کرونا کے لیے لاک ڈاؤن کیا جو کے ایک مناسب قدم تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا انسان کو ہر دفعہ یہ بات کسی قدرتی آفت سے سمجھ میں آئے گی کہ ماحول پر اس کی موجودگی کا کیا اثر ہے؟