مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری | عائشہ ظہیر

مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری

تحریر: عائشہ ظہیر

بڑھتی ہوئی مہنگائی میں عام آدمی کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سماجی بے چینی سرمایہ کاری کے لیے قاتل ہے۔ علم کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمارے پاس تربیت گاہیں تک نہیں ہیں۔پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے۔ اس کے سرمائے اور ٹیکنالوجی کی کمی ضرور ہے لیکن محنت کو مفلوج سماج میں افراتفری ڈال کر قومی وسائل کو غیر ملکی سازش کارفرما ہیں؟اس ملک میں عام آدمی کے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں ۔پٹرولیم ایل پی جی کے بعد اب بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ انتہائی تشویشناک اور لمحہ فکریہ ہے۔ حیرت اور تماشا یہ ہے کہ معیشت تباہ حال ،عوام بے روزگار ہو رہے ہیں۔ ملک میں غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ملک میں معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔22 کروڑ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔ تحریک انصاف نے پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ کیا لیکن پھر اس وعدے کے ساتھ تحریک انصاف کی حکومت نے پراپرٹی پر 35 فیصد تک ٹیکس لگا کر لوگوں سے چھیننے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ پاکستان میں غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے عوام کی برسوں سے مہنگائی کا بم برداشت کر رہی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت میں بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بے روزگاروں کی تعداد 70 لاکھ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے اور 2023 میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھاکہ اس کے پانچ سالہ دور حکومت میں ایک کروڑ نوکریوں کا انتظام کیا جائے گا۔لیکن ان کی حکومت سنبھالنے کے بعد پہلے سے موجود نوکریوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں قسم کے ممالک میں بے روزگاری کا مسئلہ ہمیشہ رہتا ہے مگر الگ الگ ملکوں میں بے روزگاری کے پیمانے بھی الگ الگ ہیں ۔امریکہ میں بے روزگاری اسے کہتے ہیں جس سے اس کی تعلیم یا ہنرکے مطابق نوکری نہ ملی ہو ہم لوگ اپنے ملک میں بے روزگاری اسے کہتے ہیں جو بازار میں محنتانہ قائم ہے اس سے بھی کم محنتانہ پہ کام کرنے کو رضامند ہو مگر پھر بھی اسے کام نہ ملے۔ بے روزگاری ہر گزرتے دن کے ساتھ سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ مشہور ماہر معاشیات کینس کے نزدیک بے روزگاری دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ملک میں بے روزگار کو دینے، کرنے کے لیے اگر کوئی کام نہ ہو تو حکومت کو چاہیے کہ ان سے گڈے کھدوا کر اس میں مٹی بھریں۔ اس سے بھلے ہی کوئی منافع بخش کام کی پیداوار ہو یا نہ ہو لیکن اس سے ان کی بے روزگاری ختم ہو جائے گی اور وہ کسی فالتو کام میں ملوث نہیں ہونگے۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح جتنی تیزی سے کم ہوگی اتنی ہی تیزی سے اس ملک کی معیشت کو ترقی ملے گی اور ملک میں اشیا کی مانگ بھی بڑھے گی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ ؛موسمی بےروزگاری:-اس قسم کی بے روزگاری کھیتی کے شعبہ میں ہوتی ہے۔ کھیتی سے منسلک لوگوں کو جتائ، کٹائی کی مختلف قسم کے کام تو ملتے ہیں لیکن سیزن ختم ہوتے ہی ان کے پاس کرنے کو کوئی دوسرا کام نہیں ہوتا۔غیر معمولی بے روزگاری: یہ اس قسم کی بے روزگاری ہے جس میںے کچھ لوگوں کی پیداوار کم ہوتی ہے تو ان لوگوں کو ہٹا دیا جائے تو پیداوار میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بےروزگاری کو کم کرنے کے لیے پالیسیوں میں تھوڑی تبدیلی کرنی چاہیے۔ ہنر مند نوجوانوں کو نوکریاں دی جائیں تاکہ ملک کی معیشت مضبوط ہو سکے۔ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ اپنی پالیسیوں میں تھوڑی تبدیلی کرے اور عوام کی سہولیات کے لیے ایسے بجٹ بنائے ، ایسی تدبیر نکالی جس سے عوام کی مدد ہو سکے۔ نئی نوکریوں کا اجرا کیا جائے۔ تاکہ ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ بے روزگار ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ڈگریاں لینے کے بعد بھی انہیں کوئی نوکری نہیں ملی۔ جن کو نوکریاں مل چکی ہیں ان کی تنخواہ اتنی کم ہے کہ بمشکل گزارا کر رہے ہیں۔ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔ مگر اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتے ہیں مہنگائی اور بے روزگاری لوگوں کی برداشت سے باہر ہو رہی ہے۔ اس میں حکومت کو بھی مدد کرنی چاہئے کہ ہنر مند لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دی جائے اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ایسے فنی تعلیم حاصل کر سکیں جو کہ ان کے حصول روزگار کا ذریعہ بنیں۔