پیٹرولیم مصنوعات 35 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی سفارش

 اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پیٹرولیم ڈویژن نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات 35 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی سفارش کر دی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر سمری کابینہ کو ارسال کر دی، جس میں پیٹرول فوری طور پر 27 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 35 روپے فی لیٹر تک مہنگا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سمری میں آگاہ کیا گیا ہے کہ قیمتیں برقرار رکھنے سے 30 جون تک تقریبا 200 ارب روپے سے زائد کا بوجھ حکومت کو برداشت کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مالی سال میں مزید قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

سمری کے متن کے مطابق یکم مارچ سے 31 مارچ تک قیمتیں برقرار رکھ کر 11 ارب 73 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی جبکہ وزارت توانائی نے اپریل کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو سبسڈی کی مد میں 55 ارب روپے کی سمری ای سی سی کو بھجوائی لیکن ای سی سی نے اپریل کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو سبسڈی کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔

سمری میں کہا گیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے، عدم ادائیگیوں پر سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، وزارت توانائی نے وفاقی کابینہ کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیتمیں عالمی منڈی کے مطابق طے کرنے کی تجویز دے دی اور کہا کہ سبسڈی ختم کر دی جائے، اوگرا کی تجاویز کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا جائے، پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس کی شرح زیرو ہی رکھی جائے۔

وفاقی کابینہ پیٹرولیم ڈویژن کی سمری پر آج حتمی فیصلہ کرے گی۔

پرائس ڈفرریشنل کلیم کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ قومی خزانے میں بھاری سبسڈی کی گنجائش نہ ہونے کے باعث قیمتیں بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔