سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ٹیلی فونک رابطہ کیسے کرسکتے ہیں؟

ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں ٹیکسی ڈرائیونگ کرنے والے افراد کا زیادہ تر تعلق بیرون ممالک سے ہوتا ہے، مملکت کے سخت ٹریفک قوانین کے سبب انہیں مشکلات سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

سعودی پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ 2017-2016 ماڈل والی گاڑیوں کو ٹیکسی کے طور پر چلانے کے لیے 31 دسمبر2022 تک کی مہلت دی گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجسنی کے مطابق پرانے ماڈلز کی گاڑیوں کو ٹیکسی میں چلانے کی اجازت استثنائی طور پر دی گئی ہے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس سے قبل پابندی لگائی گئی تھی کہ ٹیکسی میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال پرانی گاڑیاں چلائی جاسکیں گی، اس حوالے سے گاڑیوں کو ٹیکسی کے طور پر چلانے کی مہلت دی گئی تھی، اس مہلت میں مزید توسیع کردی گئی ہے۔

اتھارٹی نے کہا ہے کہ ایسی گاڑیاں جو ماڈل کی شرط پوری نہیں کریں گی انہیں سروس سے خارج کردیا جائے گا۔ اس حوالے سے جو نیا ضابطہ مقرر کیا گیا ہے اس پر سال رواں کے آخر میں عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔

اس سے ٹیکسی سروس کا معیار بلند اور امن و سلامتی کا ماحول بہتر ہوگا۔ 8 لاکھ سے زیادہ سعودی ان دنوں ایپ ٹیکسی سے منسلک ہیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکسی سروس کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔