ہزاروں ویب سائٹس آپ کے ٹائپ کردہ الفاظ کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مصروف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جب ہم کسی ویب سائٹ یا انٹرنیٹ سروس میں ای میل ایڈریس ، اکاؤنٹ رجسٹر یا نیو ز لیٹر سبسکرائب کرتے ہیں تو ہمارا خیال ہوتا ہے کہ یہ ڈیٹا اس وقت تک کہیں نہیں جائے گا جب تک ہم انٹر بٹن دبا نہ دیں۔

مگر یہ درست نہیں ، درحقیقت ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہزاروں ویب سائٹ خاموشی سے ہر وہ چیز اپنے ڈیٹا میں جمع کرلیتی ہیں جو صارفین آن لائن ٹائپ کرتے ہیں، چاہے لوگ یہ معلومات دینے کا ارادہ بدل کر ویب سائٹ بند ہی کیوں نہ کردیں۔

کے یو لووین، راڈ بوڈ یونیورسٹی اور لوازان یونیورسٹی کی تحقیق میں ایک لاکھ سے زیادہ ویب سائٹس کا تجزیہ کرتے ہوئے دیکھا گیا کہ وہ کس حد تک ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں۔

اس مقصد کے لیے ایک ایسے سافٹ ویئر کو استعمال کیا گیا جو کسی حقیقی صارف کی نقل کرتے ہوئے ویب پیجز پر وزٹ کرتا اور وہاں لاگ ان یا رجسٹریشن پیجز میں تفصیلات بھرنے کے بعد جمع کرائے بغیر باہر نکل جاتا۔

محققین نے دریافت کیا کہ صرف یورپی یونین میں 1844 ویب سائٹس صارف کی مرضی کے بغیر ای میل ایڈریسز کو اپنے ڈیٹا میں جمع کرلیتی ہیں، جبکہ امریکا میں 2950 ویب سائٹس ایسا کرتی ہیں۔

راڈبوڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گیونز اکار نے کہا کہ یہ تعداد ہماری توقعات سے بہت زیادہ تھی کیونکہ ہمارا خیال تھا کہ چند سو ویب سائٹس ہی صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ صارفین کی جانب سے ویب فارمز میں درج کی گئی ذاتی تفصیلات کو سائٹس کی جانب سے اکٹھا کیا جاتا ہے چاہے اس فارم کو جمع نہ بھی کرایا جائے۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ 52 ویب سائٹس ایسی ہیں جو خود تو ایسا نہیں کرتیں مگر تھرڈ پارٹیز یہ ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں یہاں تک کہ پاس ورڈ کا ڈیٹا بھی اندراج کیے بغیر جمع کرلیا جاتا ہے۔

البتہ محققین کی جانب سے ان ویب سائٹس کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا تو انہوں نے پاس ورڈ ڈیٹا اکٹھا کرنا بند کردیا۔

تحقیق مکمل کرنے کے بعد محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ میٹا (فیس بک، انسٹا گرام اور واٹس ایپ کی ملکیت رکھنے والی کمپنی) اور ٹک ٹاک بھی دیگر ویب پیجز سے ڈیٹا اکٹھا کرنے وقالے نادیدہ مارکیٹنگ ٹریکرز استعمال کرتے ہیں۔

ایسی ویب سائٹس جو میٹا پکسل یا ٹک ٹاک پکسل (ایسے کوڈ جو ویب سائٹ ڈومین کو کی سرگرمیوں کو ٹریک کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں) کو استعمال کرتی ہیں، ان میں آٹومیٹک ایڈوانس میچنگ نامی فیچر ٹرن آن ہوجاتا ہے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ایڈورٹائزر ویب سائٹس سے ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ ان ٹریکرز والے ویب پیجز میں ایک ای میل ایڈریس انٹر کرنے کے بعد جتنے بٹنوں یا لنکس پر کلک کیا جاتا ہے، صارفین کا اتنا ذاتی ڈیٹا میٹا یا ٹک ٹاک کے پاس چلا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دستاویزات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ میٹا صرف وہ ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے جو کسی فارم کو بھرنے کے بعد جمع کرایا جاتا ہے مگر ہم نے ان کے کوڈ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ وہ ویب پیج کے کسی بھی بٹن یا لنک پر کلک کرنے کا ڈیٹا بھی جمع کرتی ہے۔

امریکا میں 8438 ویب سائٹس جبکہ یورپی یونین میں 7379 سائٹس کا ڈیٹاممکنہ طور پر پکسل کے ذریعے میٹا تک پہنچتا ہے۔

محققین کی جانب سے اس حوالے سے ایک رپورٹ 25 مارچ کو میٹا کے پاس جمع کرائی گئی تھی اور کمپنی نے اس معاملے کے لیے ایک انجنیئر کو ٹاسک دیا تھا، مگر پھر کوئی اپ ڈیٹ سامنے نہیں آسکی۔

اسی طرح محققین نے 21 اپریل کو ٹک ٹاک کو اس بارے میں آگاہ کیا مگر انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔