اساتذہ کرام روحانی والدین کا درجہ رکھتے ہیں، ڈاکٹر زارا خالد خان

اسلام آباد (عبدالہادی قریشی) ٹائمز پاکستان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر بائیو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ  ایچ بی ایس میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اسلام آباد ڈاکٹر زارا خالد خان نے کہا کہ طلباء و طالبات اساتذہ کرام کی فرمانبرداری ، تابعداری اور عزت و احترام توقیر و تعظیم کر کہ ہی تعلیمی میداں میں فتح و کامرانی کے پرچم گاڑھ سکتے ہیں انھوں نے کہا کہ دور حاضر میں طلباء و طالبات کو چاہیئے کہ جدید سائنسی ایجادات کو سیکھیں اور ان سے واقفیت حاصل کریں انھوں نے کہا کہ میں اپنے اسٹوڈنٹس کو نصابی تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی دیتی ہوں تا  کہ نوجوان ملک و معاشرے میں بہترین اخلاق کے ساتھ اپنے فرائض ادا کر سکیں انھوں نے کہا کہ میڈیکل کی فیلڈ کو پاکستان میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ایچ بی ایس میڈیکل کالج میری ذاتی رائے کے مطابق میڈیکل اور ڈینٹل دونوں کی تعلیم کے حوالے سے بہترین تعلیمی ادارہ ہے ڈاکٹر زارا خالد خان نے کہا کہ دین اسلام میں جہاں پڑوسیوں ، ہمسائیوں ، مریضوں ، مسافروں اور اقرباء سمیت دیگر کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا گیا ہے وہیں طلباء و طالبات علم کو سیکھنے سمجھنے اور علمی پیاس بجھانے والوں کو یہ نصحیت کی گئی ہے دین اسلام میں کہ وہ اگر تعلیمی میدان میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اساتذہ کا ادب احترام کریں کیونکہ ہمارے محمد مصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شریعت اور دین اسلام میں اساتذہ کرام کو روحانی والدین کا بلند درجہ دیا گیا ہے انھوں نے کہا کہ ایچ بی ایس میڈیکل کالج اسلام آباد سے ایم بی بی ایس کی ڈگریاں مکمل کر کے عملی شعبہ طب میں آنے والے طلباء و طالبات حقیقی معنوں میں مریضوں کی خدمت کرتے ہیں اور ایچ بی ایس میڈیکل کالج اسلام آباد کے ایم بی بی ایس ڈگری یافتہ متعلمین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے ادارہ ایچ بی ایس میڈیکل کالج اور ملک و قوم کا نام پوری دنیا میں اپنی علمیت ، عملی کارکردگی ، صلاحیتوں اور قابلیت سے روشن کرتے ہیں ڈاکٹر زارا خالد خان نے کہا کہ جیسے ایک ہاتھ میں پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی ویسے ہی ایک کمرہ جماعت میں پڑھنے والے اسٹوڈنٹس ذہنی سطح ، خیالات و آراء اور کام کرنے کی قوت کے مطابق ایک دوسرے سے قدرتی طور پر مختلف ہوتے ہیں یہ اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ طلباء و طالبات کو کس طرح اور کتنے اچھے بہتر انداز میں اسباق کو سمجھا پاتے ہیں انھوں نے کہا کہ طلباء و طالبات اگر صلاحیتیں سیکھیں مختلف اسکلز کو حاصل کریں اور ان اسکلز کی عملی خدمات عوام کو پیش کریں اور ڈگریاں کرتے رہیں تو وہ زندگی میں کبھی ناکامیوں کا منہ نہیں دیکھیں گے ڈاکٹر زارا خالد نے کہا کہ مجھے میرے گھر والوں خصوصاً والدین نے بہت سپورٹ کیا ہے میری کامیابی میں سب سے اہم کردار میرے والد محترم والدہ محترمہ اساتذہ کرام کا ہے انھوں نے کہا کہ دنیا میں آنے والا ہر انسان اپنے ساتھ خدا داد صلاحیتیں لیکر آتا ہے اساتذہ کرام ، آس پاس کا ماحول دوست احباب ، خاندانی افراد ان صلاحیتوں کو ابھارنے و نکھارنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ڈاکٹر زارا خالد خان نے کہا کہ میں اپنی کامیابی پر اللہ کا شکر بجا لاتی ہوں میرے والدین کریمین میرے لیئے ہدایت و رہنمائی کا چراغ رہے ہیں انھوں نے مجھے کامیاب راہوں پر گامزن ہونے میں مدد کی آخر میں ان کا کہنا تھا کہ میرا نوجوان نسل کو پیغام ہے کہ علم حاصل کریں تعلیم تعلیمی اداروں کتب اور علمی شخصیات سے وابستگیاں رکھیں تعلیم انسان کو مسند و منصب انسانیت پر فائز کرتی ہے نوجوان اسکلز حاصل کریں اور تعلیم کو ہر حال میں فرض سمجھتے و جانتے ہوئے حاصل کریں نوجوان اپنے نیک و جائز مقاصد میں دل لگا کر محنت کرتے رہیں اللہ انسان کو محنتوں کا اجر و ثواب وہاں سے عطاء کرتا ہے جہاں سے انسان نے صلہ کی امید تک کی نہیں ہوتی