پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی آنے لگی

لاہور (نیوز ڈیسک) گزشتہ ماہ مئی پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لحاظ سے مایوس کن مہینہ ثابت ہوا، جس میں مجموعی طور پر ماہانہ بنیادوں پر غیرملکی سرمایہ کاری میں 17 فیصد جبکہ مئی 2021ء سے موازنہ کیا جائے تو سالانہ بنیادوں پر غیر ملکی سرمایہ کاری میں 29 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

معاشی ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی، غیر مستحکم کرنسی مارکیٹ اور بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے درپیش چیلنجز کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہورہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ مئی میں مجموعی طور پر 14 کروڑ 12 لاکھ ڈالر کا غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان آیا، جو مئی 2021ء کے 19 کروڑ 92 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کم ہے۔

اسی طرح رواں مالی سال جولائی 2021ء تا مئی 2022ء پر مشتمل 11 ماہ کے دوران مجموعی طور پر ایک ارب 59 کروڑ 68 لاکھ ڈالر کا براہ راست سرمایہ پاکستان آیا جو گزشتہ مالی سال کے اس عرصے کے مقابلے میں 5 فیصد کم ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین سے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی، چین سے مجموعی طور پر رواں مالی سال منتقل ہونیوالے سرمائے کا حجم 37 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا تاہم چین سے گزشتہ سال اس عرصے میں 72 کروڑ ڈالر کا سرمایہ لایا گیا تھا، اس لحاظ سے چین سے سرمایہ کاری میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ سرمایہ امریکا سے آیا، رواں مالی سال کے 11 ماہ میں امریکا سے منتقل ہونیوالی براہ راست سرمایہ کاری کا حجم 24 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا جو اس سے پچھلے مالی سال کے 12 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں زیادہ ہے، یعنی رواں مالی سال کے دوران چینی براہ راست سرمایہ کاری میں کمی جبکہ امریکی سرمایہ کاری میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے دوران توانائی، مالیاتی شعبے اور تیل و گیس میں سب سے زیادہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی گئی۔