پناہ گاہ، غریب اور نادار افراد کیلئے ایک امدادی اقدام | حسنین صفدر

پناہ گاہ، غریب اور نادار افراد کیلئے ایک امدادی اقدام

تحریر: حسنین صفدر

2018کا الیکشن بھاری اکثریت سے جیت کر عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن گئے۔ وہ نئے پاکستان کے وژن کے ساتھ اقتدار میں آئے اور ملک کے غریب طبقے کی زندگی کو آسان بنانے کیلئے کوشش شروع کر دی ۔ انہوں نے حلف اٹھایا اور ملک کو اسلامی ریاست بنانے کا وعدہ کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم نے غریب عوام کو پناہ گاہ فراہم کرنے کا اقدام کیا۔ انسانی حقوق ہمارے دین اسلام کا بہت ضروری حصہ ہیں اور جو لوگ ان حقوق کا خیال رکھتے ہیں ان کے درجات آخرت میں بلند ہوتے ہیں۔ پرانے زمانے میں لوگوں کو سکون ملتا تھا جب بھی وہ کسی دوسرے شہر جاتے تھے۔ مساجد کے دروازے مسافروں کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔ لیکن وقت کی تبدیلی کے ساتھ لوگ مصروف ہو گئے اور اسلام کی تعلیمات کو بھول گئے۔ اسی طرح حکومت بھی غریب عوام کے لیے اپنا کردار بھی بھول گئی۔ تاہم، 2018 میں حکومت میں تبدیلی کے ساتھ اس میں بھی تبدیلی آئی۔
عمران خان نے بطور وزیراعظم حلف اٹھایا اور انہوں نے جو سب سے اہم احکام جاری کیے، ان میں سے ایک پناہ گاہ بنانے کا تھا۔ ان پناہ گاہوں کا مقصد غریب اور بے سہارا لوگوں کو خوراک اور رہائش فراہم کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں بہت سے لوگ اپنی روزی کمانے کے لیے مختلف شہروں میں آتے ہیں۔ تاہم، مہنگائی اور کم اجرت کی وجہ سے، شہر میں قیام کرنا اور گھر پیسے بھیجنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ پناہ گاہیں ایسے مزدوروں کے لیے راحت کی ہوا کے طور پر سامنے آئی ہے کیونکہ اب وہ اپنے گھروں سے دور رہتے ہوئے مفت کھانا حاصل کرنے اور قیام کرنے کے قابل ہیں۔ اس سے مزدوروں کی بہت مالی امداد ہوئی۔ کھانے اور رہائش کے ساتھ ساتھ،اگر کوئی اپنے قیام کے دوران بیمار ہو جائےتو یہ پناہ گاہیں مفت طبی معائنہ بھی فراہم کرتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر نگرانی عمران خان کے حکم پر پنجاب کے ہر ڈویژن میں پناہ گاہیں بنائی گئی۔ عثمان بزدار عمران خان کا بہت بڑا اثاثہ رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ریاست مدینہ کے لیے ان کے وژن کو سمجھا بلکہ وہ عمران خان کے خواب کو پورا کرنے کی پوری کوشش بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کی مختلف ڈویژنوں میں بہت سی پناہ گاہوں کا افتتاح کیا اور اس کے کام کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً دورے بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گاہیں پاکستان کے گریب اور نادار لوگوں کے لیے عمران خان کا وژن ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے عثمان بزدار نے راولپنڈی میں پناہ گاہ کا اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے لوگوں سے ان کے قیام اور پناہ گاہ سے متعلق رائے کے بارے میں پوچھا۔ ایک مسافر نے انہیں بتایا کہ پناہ گاہ کا ماحول بالکل گھر جیسا ہے۔ پناہ گاہ کے فعال ہونے سے پہلے وہ فٹ پاتھ پر راتیں گزارتا تھا۔ انہوں نے اس اقدام میں عثمان بزدار اور ان کے کام کی تعریف کی۔
کئی نجی تنظیمیں اور امیر لوگ پناہ گاہوں میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ پناہ گاہوں کے لیے رجسٹر ہونے والے 90 فیصد لوگ مزدور ہیں۔ وہ بڑے شہروں میں کمانے آتے ہیں کیونکہ بعض اوقات ان کا تعلق ایسے علاقے سے ہوتا ہے جہاں مزدوری کے مواقع کم ہوتے ہیں اور وہ اپنے ماہانہ اخراجات پورے نہیں کر پاتے۔ ایک مزدور نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ 2017-2018 میں جب کوئی پناہ گاہ نہیں تھی، اسے اپنے اوپر 300-400 روپے خرچ کرنے پڑتے تھے۔ بعض اوقات وہ گھر پیسے بھی نہیں بھیج پاتا تھا اور قرض کی نوبت بھی آ جاتی تھی ۔ لیکن اب وہ پناہ گاہ کی سروس سے فائدہ اٹھا کر ماہانہ سات ہزار روپے کی بچت کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب وہ اپنے بیٹے کے لیے سائیکل بھی خرید سکتے ہیں۔
پورے پاکستان میں روزانہ ہزاروں لوگ پناہ گاہوں میں رہتے ہیں اور مفت کھانا اور پناہ حاصل کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کھانا اور سروس غیر معمولی ہو اور لوگوں کے ساتھ مہمانوں اور وی آئی پی افراد جیسا سلوک کیا جائے۔ پناہ گاہوں میں نسل، رنگ یا مذہب کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ عمران خان اور عثمان بزدار نے غریب عوام کی ریلیف کے لیے جو اقدام اٹھایا ہے اس پر وہ بہت زیادہ عزت اور تحسین کے مستحق ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل میں بھی پاکستان کے غریب عوام کو فائدہ پہنچاتا رہے گا۔