عمران خان کو نکالا گیا کیونکہ عمران امریکا کی نوکری نہیں کرنا چاہتا تھا

راولپنڈی (نیوز ڈیسک) لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ اتنے کم وقت میں اتنے بڑے جلسے کے انعقاد پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، آج میرے ملک میں مہم چل رہی ہے، مہم کا ایک ہی مقصد ہے میری قوم کو حقیقی طور پر آزاد نہ ہونے دو،

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ نوجوانو! مستقبل آپ کا ہے، آپ نے فیصلہ کرنا ہے کیا ہمیں اس پاکستان میں بڑا ہونا ہے جس کی جدوجہد قائداعظم نے کی تھی، یا وہ پاکستان جس میں کمزور کیلئے الگ اور طاقتور کیلئے الگ قانون ہو۔

عمران خان نے کہا کہ غریب کیلئے الگ اور طاقتور کیلئے الگ قانون ہونے سے قوم تباہ ہوجاتی ہے، تحریک پاکستان میں قائداعظم کے ساتھ لیاقت علی خان کھڑے ہوئے تھے، جو ملک کے ساتھ ہورہا ہے مجھے آپ سب کی فکر ہے، اپنی انا اور ذاتی فائدے کیلئے ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگادیتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے پاکستان میں بسنے والوں کی فکر ہے، جب تک ملک کو حقیقی آزادی نہ دلا دوں سڑکوں پر نکلتا رہوں گا، انہوں نے سوال کیا کہ مجھے ہٹانے کی ضرورت کیوں پڑی؟، کیوں بیرونی سازش سے عمران خان کو ہٹایا گیا؟، کیاعمران خان پیسے چوری کرکے باہر محلات خرید رہا تھا؟، یا میں ملک میں زمینوں پر قبضے کررہا تھا یا فیکٹریاں بنارہا تھا؟۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اس لیے نکالا کیوں کہ اس نے چوری کی تھی، رجیم چینج اس لیے کی کیوں کہ وہ امریکا کی غلامی نہیں چاہتا تھا، خارجہ پالیسی وہ ہوتی ہے جو عوام کی بہتری کیلئے ہوتی ہے، میں نہیں چاہتا تھا امریکا کی جنگ میں میری قوم جائے۔

عمران خان نے کہا کہ اس جنگ میں میری قوم کے 80 ہزار افراد شہید ہوئے، میں نہیں چاہتا تھا امریکا اوپر سے کوئی کارروائی کرے، چاہتا ہوں وہ خارجہ پالیسی ہو جو میرے ملک کیلئے فائدہ مند ہو، اگر بھارت امریکا اتحادی ہو کر روس سے تیل خرید سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے لوگوں کو 25 روپے پٹرول سستا دے سکتا ہے میں کیوں نہ دوں، بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی ہے، امریکا کی جنگ میں قبائلی علاقوں کے لوگوں کےساتھ ظلم ہوا، امریکی جنگ کی وجہ سے 35 لاکھ قبائلی لوگوں نے نقل مکانی کی، اس کا کون ذمہ دار تھا؟۔

عمران خان نے کہا کہ کرپٹ لوگوں کو صرف عوام شکست دے سکتی ہے، جب تک حقیقی آزادی نہیں ملتی عوام میں رہوں گا، عمران خان کو نکالا گیا کیونکہ عمران امریکا کی نوکری نہیں کرنا چاہتا تھا، اس حکومت کو گرایا گیا جس کی معیشت 17سال میں بہتر ترقی کررہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جب سے یہ آئے ہیں بجائے دولت میں اضافے کے فیکٹریاں بند ہورہی ہیں، جس مہینے ہم حکومت چھوڑ کر گئے تھے 3.1 ارب ڈالر ایکسپورٹس تھیں، پٹرول ہمارے دور میں 120 فی لیٹر تھا اور آج 234 پر پہنچ گیا، ملک کو دلدل سے نکالنے کا ایک ہی طریقہ ہے شفاف انتخابات۔

عمران خان نے کہا کہ 25 مئی کو جو ظلم کیا اور اس دن دھرنا ختم نہیں کرتا تو رات کو خون خرابہ ہونا تھا، مجھ پر 16 ایف آئی آر درج کی گئیں، شہبازگل کو اغوا کرکے تشدد کیا گیا، دو تین دن تک مجھے پتہ نہیں چلا، وکلا نے بتایا انہوں نے شہبازگل کا کیا حشر کردیا ہے، شہبازگل ایک پروفیسرہے جو امریکا میں پڑھاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ شہبازگل اپنے ملک کیلئے آیا ہے، اس کا کتنا بڑا جرم تھا اس کو اٹھا کر لے گئے، نوازشریف، خواجہ آصف، فضل الرحمان اور مریم نواز نے اس سے کہیں زیادہ مخالفت میں باتیں کیں، انہیں کیوں نہیں پکڑتے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ان کو عمران خان نہیں چیری بلاسم چاہیے تھا، میں مانگنے نہیں آپ لوگوں کو تیار کرنے آیا ہوں، عوام فیصلہ کرے کہ نقصان پہنچانے والا کون ہے، عمران کا جرم یہ ہے کہ وہ چوروں کے ٹولے کو تسلیم نہیں کرے گا، اے آر وائی نیوز کو تحریک انصاف کا موقف پیش کرنے پر بند کیا گیا، اے آر وائی نیوز کو اس لئے بند کیا گیا تاکہ وہ ہمارا موقف پیش نہ کرسکے، میڈیا پر کوئی بات کرے تو ان کو دھمکی دی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں