نان اسٹک برتنوں کا استعمال صحت کیلیے انتہائی خطرناک

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نان اسٹک برتنوں کا استعمال اب تقریباً ہر گھر میں کیا جارہا لیکن ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ جگر کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔

نان اسٹک برتن ہر گھر کی ضرورت بنتا جا رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی کھانا جلتا نہیں ہے اور برتن کی صفائی بھی آسان ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ خواتین اب کچن میں نان اسٹک برتنوں بالخصوص نان اسٹک فرائی پین کے استعمال کو ترجیح دیتی ہیں تاہم ایسی خواتین کیلیے بری خبر ہے کہ نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جان لیوا مرض کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔

اس حوالے سے امریکی شہر لاس اینجلس کی یونیورسٹی اصف سدرن کیلیفورنیا میں ایک نئی تحقیق ہوئی جس میں یہ ہولناک انکشاف ہوا ہے کہ نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مصنوعی کیمیکلز گھریلو سامان اور کچن کے کچھ برتنوں میں عام ہوتے ہیں، جس کے استعمال سے کسی شخص میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ کچن کے سامان اور کھانے کی پیکیجنگ پر عام طور پر پائے جانے والے کیمیکلز کینسر کے خطرے کو چار گنا بڑھا سکتے ہیں۔

سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکل نان اسٹک کچن کے برتنوں، نل کے پانی، واٹر پروف لباس، صفائی ستھرائی کی مصنوعات اور شیمپو میں موجود ہوتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایسے کیمیکلز کا زیادہ استعمال کرنے والے لوگوں میں (non-viral hepatocellular carcinoma) ہونے کا امکان 4.5 گنا زیادہ ہو جاتا ہے جو ایک عام جگر کا کینسر ہے۔

محققین کو یہ بات بھی پتہ چلی کہ جب یہ کیمیکلز جگر میں داخل ہوتے ہیں تو میٹابولزم کو تبدیل کرتے ہیں اور فیٹی جگر کی بیماری کا باعث بنتے ہیں جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں محققین نے 50 لوگوں کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا جن میں جگر کا کینسر ظاہر ہوا جبکہ دیگر 50 افراد میں نہیں ہوا، کینسر کے مریضوں کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا اور ان لوگوں کے ساتھ موازنہ کیا گیا جنہیں کبھی بیماری نہیں ہوئی تھی، ان لوگوں کے خون میں کئی قسم کے کیمیکل پائے گئے جنہیں کینسر ہو گیا۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں