ٹویٹر کا مالک بنتے ہی ایلون مسک نے بھارتی چیف ایگزیکٹو کو نکال باہر کیا

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ٹیسلا کے مالک ایلون مسک سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کے بھی مکمل طور پر مالک بن گئے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ ٹویٹر کے بھارتی نژاد سی ای او پراگ اگروال کو نکال باہر کیا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایلون مسک نے مالک بننے کے فوری بعد ٹویٹر کے سی ای او پراگ اگروال اور سی ایف او نیڈ سیگل کو کمپنی سے برطرف کر دیا گیا ہے، یہی نہیں بلکہ انہیں کمپنی کے صدر دفتر (ہیڈ کوارٹر) سے بھی باہر نکال دیا گیا ہے۔

ایلون مسک نے رواں سال 13 اپریل کو ٹویٹر کی خریداری کا اعلان کیا تھا، انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو 54.2 ڈالر فی شیئر کے حساب سے 44 بلین ڈالر میں خریدنے کی پیشکش کی تھی لیکن پھر اسپیم اور جعلی اکاؤنٹس کی وجہ سے انہوں نے اس معاہدے کو مؤخر کر دیا۔

بعد ازاں 8 جولائی کو مسک نے معاہدہ توڑنے کا فیصلہ کیا، اس کے خلاف ٹویٹر نے عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن پھر اکتوبر کے اوائل میں مسک نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے دوبارہ معاہدہ مکمل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

اس دوران ڈیلاویئر کی عدالت نے 28 اکتوبر تک ڈیل مکمل کرنے کا حکم دیا، ایلون مسک نے ایک روز قبل یعنی 27 اکتوبر کو ٹویٹر کے دفتر پہنچ کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

مسک نے ٹویٹر کے سی ای او پراگ اگروال، چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) نیڈ سیگل اور قانونی امور کی پالیسی کے سربراہ وجے گاڈے کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

مسک نے ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ انہیں اور ٹویٹر کے سرمایہ کاروں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جعلی اکاؤنٹس کی تعداد کے حوالہ سے گمراہ کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق جب ایلون مسک کا ٹویٹر کے ساتھ سودا مکمل ہوا تو اگروال اور سیگل دفتر میں موجود تھے، اس کے بعد انہیں دفتر سے باہر نکال دیا گیا تاہم اس حوالے سے ٹویٹر، ایلون مسک یا کسی عہدیدار کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی ٹویٹر میں آمد کے ساتھ ہی کمپنی کے ملازمین کی نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں، واشنگٹن پوسٹ نے انٹرویوز اور دستاویزات کے حوالے سے بتایا تھا کہ ٹویٹر خریدنے کے بعد مسک کمپنی کے 75 فیصد ملازمین کو برطرف کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں